اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف: 4 کروڑ 20 لاکھ آبادی کے ساتھ جکارتہ نے ٹوکیو کو پیچھے چھوڑ دیا
جکارتہ نے عالمی سطح پر ایک نئی پہچان حاصل کرلی ہے جہاں بلند و بالا عمارتوں کے ساتھ غریب آبادیاں بھی موجود ہیں۔ شہر کی تیز رفتار ترقی نے جہاں معاشی مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں بنیادی ڈھانچے، ماحول اور معیار زندگی پر دباؤ بھی بڑھا ہے۔
شہری تضادات کی عکاسی
شہر کے مختلف علاقوں میں صرف چند میٹر کے فاصلے پر شاندار رہائشی کمپلیکس اور کچی آبادیاں موجود ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جکارتہ میں آبادی کی کثافت 22 ہزار افراد فی مربع کلومیٹر ہے جس کی وجہ سے معاشرتی تفریق واضح نظر آتی ہے۔
- جدید فلک بوس عمارتوں میں رہنے والے متمول طبقے
- قابل برداشت رہائش کی تلاش میں جدوجہد کرنے والے لاکھوں افراد
- شہری بنیادی ڈھانچے پر بڑھتا ہوا دباؤ
فضائی آلودگی اور ٹریفک کے مسائل
بڑھتی ہوئی آبادی نے شہری نقل و حمل کو بھی متاثر کیا ہے۔ جام اور ٹریفک کے بھاری بہاؤ نے فضائی معیار کو گرایا ہے۔ انڈونیشیا ڈیفنس یونیورسٹی کی تازہ تحقیق کے مطابق مرکزی جکارتہ جیسے گنجان آباد علاقوں میں ذرّاتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
سبزہ زاروں کی کمی
ہسکوارنا اربن گرین اسپیس انسائٹس (HUGSI) کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق جکارتہ کا صرف 18 فیصد رقبہ سبزہ زاروں پر مشتمل ہے، جس میں سے 14 فیصد درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ اگرچہ مقامی سطح پر باغبانی کے منصوبے موجود ہیں، لیکن یہ شہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
ہجرت اور آبادیاتی تبدیلیاں
شہر میں ہجرت آبادی کے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جکارتہ میں شرح پیدائش نسبتاً کم ہے جبکہ اموات کی شرح اوسط سے زیادہ نہیں۔ تاہم صرف باہر سے آنے والے ہی نہیں بلکہ شہر کے تعلیم یافتہ افراد بھی مضافاتی علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات
آبادی کے دباؤ کے علاوہ جکارتہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتائج بھی بھگت رہا ہے۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کو بار بار آنے والے سیلابوں کا سامنا ہے، جبکہ کئی لوگ تیرتی ہوئی کشتیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ زمین کے دھنسنے، سمندر کی سطح میں اضافے اور زیادہ بارشوں کا مجموعہ جکارتہ کو خاص طور پر خطرے میں ڈال رہا ہے۔
نئی دارالحکومت کا منصوبہ
انڈونیشیا کی حکومت بورنیو جزیرے پر واقع نوسانتارا کو نئی دارالحکومت بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس “سمارٹ فاریسٹ سٹی” میں وسیع سبزہ زار، پائیدار توانائی، جدید بنیادی ڈھانچہ اور ذہین نقل و حمل کا نظام ہوگا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سیاسی مقاصد کے تحت بنایا جا رہا ہے اور حکومت کی تصویر سنوارنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
