صورتحال کا خلاصہ
پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹرز نے ٹریفک آرڈیننس 2025 کے خلاف وہیل جیم ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان ٹرانسپورٹ یونائیٹڈ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس آرڈیننس کو یکسر مسترد کر دیا اور حکومت سے فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔
ہڑتال کے اثرات
ٹرانسپورٹرز کے مطابق:
- عوامی ٹرانسپورٹ معطل رہے گی۔
- گڈز ٹرانسپورٹ، منی بسز، لوڈرز اور رکشے بھی ہڑتال میں شامل ہیں۔
- شہر کے اندر، ضلعوں اور صوبوں کے درمیان ٹرانسپورٹ سروسز بند ہیں۔
مذاکرات کی صورتحال
ٹرانسپورٹرز اور پنجاب حکومت کے درمیان پہلے دور کی بات چیت ناکام ہو چکی ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان اگلے دور کی مذاکرات آج دوپہر 2 بجے ہوں گے۔
پولیس کی پوزیشن
پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے ہڑتال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی قسم کی “بلیک میلنگ” یا دباؤ کے آگے جھکیں گے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر لائسنس گاڑی چلانا حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
چالان کی کارروائی
گزشتہ ہفتے پنجاب پولیس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں 24 گھنٹوں کے دوران 63,970 سے زائد چالان جاری کیے جن کی مالیت 80 ملین روپے سے تجاوز کر گئی۔ پولیس ترجمان کے مطابق:
- 28,000 چالان ہیلمٹ نہ پہننے پر جاری کیے گئے۔
- 4,312 چالان دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیے گئے۔
- 23,904 گاڑیاں ضبط کی گئیں۔
