اقدام کی وجہ احتجاج میں شہری ہلاکتیں بتائی گئی
اٹلی کے وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے اپنے ہم منصبوں کے سامنے ایران کے انقلابی گارڈز کو یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کریں گے۔ انہوں نے اس اقدام کی وجہ ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کو قرار دیا ہے۔
برسلز میں اجلاس میں ہوگی بحث
یہ تجویز اس ہفتے برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں زیر بحث لائی جائے گی۔ وزیر خارجہ تاجانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “احتجاج کے دوران شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصانات کے واضح جواب کی ضرورت ہے”۔
انفرادی پابندیوں کا بھی ہوگا مطالبہ
اٹلی کے وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے یورپی شراکت داروں کے سامنے “ان مکروہ اعمال کے ذمہ دار افراد کے خلاف انفرادی پابندیاں” عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کریں گے۔
انقلابی گارڈز کا کردار اور ڈھانچہ
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریاتی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک انتہائی منظم مسلح قوت ہے جس پر مغربی ممالک ایران میں ہونے والے وسیع احتجاجی تحریک کی سرکوبی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔
- انقلابی گارڈز کا قیام 1979 میں اسلامی انقلاب کے فوراً بعد عمل میں لایا گیا۔
- ان کے پاس وسیع انٹیلی جنس نیٹ ورک، زمینی، فضائی اور بحری وسائل موجود ہیں۔
- یہ باقاعدہ فوج سے بہتر سہولیات اور تربیت یافتہ ہیں۔
- یہ خطے میں ایران کے اتحادیوں جیسے لبنانی حزب اللہ کے ساتھ رابطے کا ذریعہ ہیں۔
- ایرانی معیشت کے تمام اہم شعبوں میں ان کی کنٹرول کمپنیاں موجود ہیں۔
یورپی یونین کی موجودہ پابندیاں
یورپی یونین پہلے ہی انقلابی گارڈز پر مختلف پابندیاں عائد کر چکی ہے جو 2021 میں ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں نافذ کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں میں اثاثوں کی منجمد کرنے اور یورپی یونین میں سفر پر پابندی شامل ہے۔
اس کے علاوہ تجارتی اور مالی پابندیاں بھی نافذ ہیں جن میں ہتھیاروں یا دوہرے استعمال والی اشیاء کی برآمد پر پابندی شامل ہے۔ ایران سے خام تیل، قدرتی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی عائد ہے۔
اتفاق رائے درکار، فیصلہ ابھی باقی
ایک یورپی اہلکار نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ ایرانی انقلابی گارڈز کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی تجویز اس ہفتے کے اجلاس کے ایجنڈے پر ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اسے منظور ہونے کے لیے اتفاق رائے درکار ہے اور “ابھی ہم اس مقام پر نہیں پہنچے ہیں”۔
بین الاقوامی ردعمل
گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے کہا تھا کہ “اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی یونین ایرانی انقلابی گارڈز کو دہشت گرد تنظیم قرار دے”۔ ریاستہائے متحدہ نے 2019 میں انقلابی گارڈز کو اپنی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔
اس تجویز پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تفصیلی بحث متوقع ہے جہاں تمام رکن ممالک کی رضامندی اس کے نفاذ کے لیے ضروری ہوگی۔
