واشنگٹن: امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے منیپولس میں آئی سی ای (امریکی امیگریشن پولیس) کے ہاتھوں دو مظاہرین کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کے درمیان امن اور اتحاد کی اپیل کی ہے۔
خاتون اول کا فاکس نیوز کو انٹرویو
منگل کو فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میلانیا ٹرمپ نے کہا، “میں تشدد کے خلاف ہوں۔ ہمیں ان مشکل وقتوں میں متحد ہونا چاہیے۔” انہوں نے پرامن مظاہروں کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر اور میئر کے ساتھ ایک “عمدہ فون کال” کی ہے اور وہ مل کر صورتحال کو پرامن رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بھیجے ‘بارڈر زار’
ادھر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منیپولس میں اپنے ‘بارڈر زار’ ٹام ہومن کو بھیجا ہے، جو واشنگٹن کی طرف سے چلائی جانے والی وسیع پیمانے پر تارکین وطن کی بے دخلی کی پالیسی کے ذمہ دار ہیں۔ ہومن براہ راست صدر ٹرمپ کو رپورٹ کریں گے اور وہ گریگ بووینو کی جگہ لیں گے، جو گذشتہ کچھ مہینوں سے امریکی امیگریشن پالیسی کے مرکزی کردار رہے ہیں۔
شہر سے وفاقی ایجنٹس کے انخلا کا اعلان
منیپولس کے ڈیموکریٹک میئر جیکب فری کے مطابق، منگل کو وفاقی خدمات کے ایجنٹس شہر چھوڑنا شروع کر دیں گے۔ میئر نے وائٹ ہاؤس کے مکین سے بات چیت کی تھی۔ یہ اعلان امریکی حکام کی طرف سے سکون کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے، ایسے شہر میں جہاں ان دو المناک واقعات نے صورتحال کشیدہ کر دی تھی۔
ہلاک ہونے والے مظاہرین
شمالی امریکہ کے شہر منیپولس میں گذشتہ کچھ دنوں میں آئی سی ای کے ہاتھوں دو افراد، ایلکس پریٹی اور رینی گڈ ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعات آئی سی ای کے خلاف ہونے والی تحریکوں کے دوران پیش آئے تھے۔ میلانیا ٹرمپ نے ان تناؤ سے “متاثرہ افراد” کے لیے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے، جو صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے مختلف ہیں جن میں انہوں نے ہلاکتوں کا الزام “ڈیموکریٹس کی پیدا کردہ بے راہ روی” پر لگایا تھا۔
