واقعے کے بعد انتظامیہ میں ہلچل اور الزامات کا کھیل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اپنی سخت امیگریشن پالیسی کے باعث پیدا ہونے والے بحران میں پھنس گئی ہے۔ منیاپولس میں بارڈر پیٹرول کے اہلکاروں کے ہاتھوں الیکس پریٹی کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ پہلے تو متوفی کو ہی موردِ الزام ٹھہراتی رہی، لیکن بعد ازاں اس موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
سٹیفن ملر کا غیر متوقع اعتراف
صدر ٹرمپ کے امیگریشن مشیر سٹیفن ملر، جو اپنی سخت ترین موقف کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، نے منگل کے روز ایک بیان میں تسلیم کیا کہ پولیس اہلکاروں سے غلطی ہوئی ہوگی۔ سی این این اور ایکسیوس کے مطابق جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس نے ہوم لینڈ سیکیورٹی محکمہ (ڈی ایچ ایس) کو واضح ہدایات جاری کی تھیں۔
ملر کے بیان میں الزام کسی اور پر ڈالنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سی بی پی کی ٹیم نے ممکنہ طور پر پروٹوکول کیوں نہیں اپنایا۔” یہ بیان اس لیے اہم ہے کیونکہ واقعے کے فوری بعد ملر نے بارڈر پیٹرول اہلکاروں کا دفاع کیا تھا۔
انتظامیہ کے اندر باہمی جنگ
واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اراکین ایک دوسرے پر الزامات لگانے لگے ہیں۔ ڈیلی بیسٹ کے مطابق، ڈی ایچ ایس کی سربراہ کرسٹی نوئم، جنہیں “آئس باربی” کا لقب دیا جاتا ہے، نے نجی طور پر کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ اور سٹیفن ملر کی ہدایات پر عمل کیا ہے۔
دوسری طرف، سٹیفن ملر نے نوئم کے محکمے پر پہلا جھوٹا بیان جاری کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سی این این کے ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں بشمول ملر نے ہی نوئم کو سخت لائن اپنانے کی ہدایت کی تھی۔
امیگریشن پالیسی میں نرمی کا اعلان
اس بحران کے درمیان صدر ٹرمپ نے امیگریشن کنٹرول میں “کمی” کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے منیاپولس میں بارڈر پیٹرول کی کمانڈ بھی تبدیل کردی ہے۔ بارڈر پیٹرول کے کمانڈر گریگ بووینو کی جگہ ٹام ہومان کو لگایا گیا ہے، جو ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے اہم معماروں میں سے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اس تبدیلی کو عہدے کی تنزلی قرار دینے سے انکار کرتا ہے، لیکن صدر ٹرمپ خود بووینو کے بارے میں مبہم بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں، “وہ بہت اچھے ہیں، لیکن وہ کچھ عجیب شخصیت کے مالک ہیں۔ بعض حالات میں یہ اچھی بات ہے، شاید یہاں ایسا نہیں تھا۔”
نومبر کے انتخابات پر ممکنہ اثرات
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، منیاپولس واقعے کے بعد کئی ریپبلکن اراکین پارلیمنٹ اپنی سیاسی پوزیشن کو لے کر پریشان ہیں۔ “لیٹیناس فار ٹرمپ” کی بانی الینا گارشیا نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا، “میرا خیال ہے کہ وہ [ٹرمپ] سٹیفن ملر کی وجہ سے مڈٹرم انتخابات ہار جائیں گے۔”
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا، “وائٹ ہاؤس میں کسی کو بھی، بشمول صدر، امریکیوں کو زخمی یا ہلاک ہوتے نہیں دیکھنا ہے۔” انہوں نے واقعے کے بعد جاری ہونے والے جارحانہ بیانات سے خود کو الگ تھلگ رکھا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ رویہ بدلنا درحقیقت نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے پہلے ریپبلکن جماعت کو پریشانی سے بچانے کی کوشش ہے۔
