حکومت کا 132 ارب روپے سالانہ اضافی وصولی کا ہدف
وفاقی حکومت نے گھریلو بجلی صارفین سے سالانہ 132 ارب روپے اضافی وصول کرنے کے لیے نئے فکسڈ ماہانہ چارجز عائد کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی سال 2026 کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں 1.53 روپے تک کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ یہ بڑی تنظیم نو اس وقت سامنے آئی ہے جب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی ٹیرف میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں پر سماعت شروع کی۔
پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں صارفین متاثر
نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار کی صدارت میں ہونے والی سماعت میں پاور ڈویژن کی درخواست پر غور کیا گیا۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے اہلکاروں نے ریگولیٹر کو نئے ٹیرف ڈھانچے سے آگاہ کیا۔ منصوبے کے تحت، 300 یونٹس تک ماہانہ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین بشمول پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز عائد ہوں گے۔ پہلے صرف 300 یونٹس سے زیادہ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین ہی فکسڈ چارجز ادا کرتے تھے۔
فکسڈ چارجز کی نئی شرحیں
- پروٹیکٹڈ صارفین: 100 یونٹس تک – 200 روپے ماہانہ، 200 یونٹس تک – 300 روپے ماہانہ
- نان پروٹیکٹڈ صارفین: 100 یونٹس تک – 275 روپے، 200 یونٹس تک – 300 روپے، 300 یونٹس تک – 350 روپے
- 301 سے 400 یونٹس: 400 روپے (200 روپے سے بڑھا کر)
- 401 سے 500 یونٹس: 500 روپے (400 روپے سے بڑھا کر)
- 600 یونٹس: 675 روپے (600 روپے سے بڑھا کر)
- 700 یونٹس سے زیادہ: 675 روپے (325 روپے کی کمی کے ساتھ)
101 ارب روپے کی سبسڈی صنعت کو منتقل
نئے فکسڈ چارجز سے سالانہ 101 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے جو صنعتی شعبے کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہو گا۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معاشی بحالی کے لیے اہم ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے پہلے دو سلیبس سے 51 ارب روپے کی سبسڈی واپس لے لی گئی ہے، جس سے کل سبسڈی کی مدد 423 ارب روپے رہ گئی ہے۔
فی یونٹ ریٹ میں کمی کا اعلان
فکسڈ چارجز کے ساتھ ساتھ حکومت نے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا بھی اعلان کیا ہے:
- 400 یونٹس تک استعمال: 1.53 روپے فی یونٹ کمی
- 500 یونٹس تک استعمال: 1.25 روپے فی یونٹ کمی
- 600 یونٹس تک استعمال: 1.40 روپے فی یونٹ کمی
- 700 یونٹس تک استعمال: 91 پیسے فی یونٹ کمی
- 700 یونٹس سے زیادہ استعمال: 49 پیسے فی یونٹ کمی
نیٹ میٹرنگ پالیسی پر سینیٹ میں بحث
ایک اور اہم پیش رفت میں، وفاقی وزیر برائے پاور سردار اعوان لغاری نے سولر نیٹ میٹرنگ میں تبدیلیوں کا دفاع کیا، جبکہ سینیٹ نے چھت پر سولر پینلز کے قواعد پر قرارداد پر بحث مؤخر کر دی۔ حکومت کو سینیٹ اجلاس میں ٹریژری اور اپوزیشن اراکین کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کہا گیا کہ اگر نیٹ میٹرنگ ختم کرنی تھی تو اسے شروع ہی کیوں کیا گیا۔
حکومت کا موقف
وزیر پاور نے کہا کہ نیپرا اپنے دائرہ کار میں ہے اور یہ اقدام صارفین کا بوجھ کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “قانون اور آئین کے مطابق ضوابط میں تبدیلی ریگولیٹر کا کام ہے۔ یہ پالیسی نہیں ہے، اس پر واضح ہونا چاہیے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 30 ملین سے زیادہ صارفین میں سے صرف 466,506 صارفین کے پاس نیٹ میٹرنگ ہے اور ان صارفین نے 7,000 میگاواٹ بجلی نیٹ میٹرنگ پر لگائی ہے۔
مخالفت کی آوازیں
پی ٹی آئی کے سینیٹر سید علی ظفر نے حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے ساتھ اعتماد کا سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے فائدے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کریں، لیکن اب حکومت اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔”
نیپرا اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت مکمل کرنے کے بعد اپنا حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔
