دنیا بھر میں بندرگاہوں کے جال پر حکمرانی کرنے والی عظیم الشان کمپنی کا تاج دار اچانک اپنے تخت سے اتر گیا۔ سلطان احمد بن سلیم کا استعفیٰ اس وقت آیا جب ان کے اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے درمیان سینکڑوں ای میلز کا راز فاش ہو گیا۔ یہ کہانی صرف دو افراد کی خط و کتابت کی نہیں، بلکہ طاقت، رسائی اور اخلاقیات کے اس دھندلکے کی ہے جس میں دنیا کے امیر ترین اور بااثر ترین لوگ کھو جاتے ہیں۔
جب ای میلز نے دیواروں پر سایہ ڈالا
ڈی پی ورلڈ، جو چھ براعظموں میں تجارت کی شہ رگوں پر کنٹرول رکھتی ہے، اچانک ایک ایسے بحران میں گھر گئی جس کا مرکز اس کا اپنا سربراہ تھا۔ نئی جاری ہونے والی عدالتی دستاویزات نے ظاہر کیا کہ سلطان احمد بن سلیم نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک ایپسٹین کے ساتھ مسلسل اور گہرا رابطہ برقرار رکھا۔ نتیجہ فوری اور سخت تھا: ایک مختصر بیان کے ساتھ ان کا استعفیٰ پیش کر دیا گیا، اور کمپنی کی ویب سائٹ سے ان کی تصویر تک مٹا دی گئی۔
دوستی کا وہ رشتہ جو ‘قابل اعتماد’ تھا
ای میلز کے تبادلے سے ایک ایسی قربت کا پتہ چلتا ہے جو محض کاروباری تعاون سے کہیں آگے تھی۔ دونوں اپنے سفری پروگرام، خاندانی معاملات، صحت کے مسائل اور یہاں تک کہ ذاتی لطیفے بھی شیئر کرتے تھے۔ جون 2013 میں ایپسٹین نے سلیم کو “اپنے سب سے قابل اعتماد دوستوں میں سے ایک” قرار دیا۔ یہ رشتہ اس وقت بھی قائم رہا جب ایپسٹین پہلی بار نابالغ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں سزا یافتہ ہو چکا تھا۔
ترکی میں وہ ‘مساج گرل’ اور دیگر خواتین کے حوالے
ای میلز کا ایک پہلو خاص طور پر تشویشناک تھا۔ 2017 کی ایک ای میل میں سلطان احمد بن سلیم نے ایپسٹین کے لیے ترکی کے ایک ہوٹل میں ایک خاتون کے “پرائیویٹ مساج” کے “مکمل ٹریٹمنٹ” کی تربیت کا بندوبست کیا۔ ہوٹل کے نمائندے نے اس بات کی تصدیق کی۔ دیگر ای میلز میں روسی، آئرش اور ازبک نسل کی خواتین کے بارے میں ذاتی نوعیت کے تبصرے اور تفصیلات شامل تھیں، جن کا سیاق و سباق اکثر مبہم تھا۔
طاقت کے دالانوں تک رسائی کا ہنر
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایپسٹین صرف ایک دوست ہی نہیں، بلکہ سلیم کے لیے طاقتور حلقوں میں داخلے کا ٹکٹ بھی تھا۔ انہوں نے سلیم کو برطانیہ کے سینئر سیاست دان لارڈ پیٹر مینڈیلسن سے متعارف کرایا، تاکہ لندن کی ایک بڑی بندرگاہ کا کنٹریکٹ حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ ایپسٹین نے اسرائیل کے سابق وزیراعظم یہود بارک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن جیسی شخصیات سے بھی تعارف کرانے کی پیشکش کی۔
استعفیٰ کے بعد گونجتی خاموشی
سلطان احمد بن سلیم کے استعفیٰ کے بعد، ڈی پی ورلڈ کی دنیا میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی ہے۔ تاہم، اس کے اثرات گہرے ہیں۔ برطانیہ کی ترقیاتی فنانس ایجنسی اور کینیڈا کے بڑے پینشن فنڈز نے کمپنی میں نئی سرمایہ کاری روک دی ہے۔ پرنس آف ویلز کے ماحولیاتی پراجیکٹ ‘ارتھ شاٹ’ نے بھی، جسے ڈی پی ورلڈ کی مالی معاونت حاصل تھی، اس معاملے کی چیریٹی کمیشن کو رپورٹ کیا ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ طاقت اور احتساب کے نئے باب کا آغاز ہے۔
