سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات میں دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم گہرا اعتماد کا بحران اور فوجی کشیدگی کے آثار واضح ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں مذاکراتی پیش رفت
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بیان دیا کہ گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت فروری کے شروع میں عمان میں ہونے والے اجلاس سے “زیادہ تعمیری” تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق “رہنما اصولوں کے ایک وسیع معاہدے” پر پہنچ چکے ہیں جس کی بنیاد پر ممکنہ معاہدے کے متن پر کام شروع کیا جائے گا۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام کی “توثیق” کرنے اور ہائی انرچڈ یورینیم کے ذخیرے پر بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، بشرطیکہ اس کی معیشت کو مجروح کرنے والی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔
امریکی عہدیدار کا محتاط رویہ
امریکی نائب صرف جے ڈی وینس نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مذاکرات “اچھے طریقے سے چلے” ہیں، لیکن ایران نے ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ تمام “سرخ لکیروں” کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیوں اور خطے میں مسلح گروہوں کو دی جانے والی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
وینس نے خبردار کیا کہ “تمام آپشنز میز پر ہیں” اور صدر ٹرمپ یہ فیصلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں کہ ” سفارتی راستہ اپنی حد تک پہنچ چکا ہے”۔
خلیج میں فوجی کشیدگی
مذاکرات کی میز کے پیچھے، فوجی طاقت کا مظاہرہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو امریکی ایئرکرافٹ کیریئر ایرانی ساحلوں کے قریب تعینات ہیں۔ اسی دوران ایران کے انقلابی گارڈز نے آبنائے ہرمز میں اہم فوجی مشقیں کی ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا، “ایک جنگی جہاز یقیناً ایک خطرناک ہتھیار ہے لیکن اسے ڈبو دینے والا ہتھیار اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے”۔
آگے کا راستہ
ثالثی کرنے والے عمانی اہلکاروں نے مذاکرات میں “پیش رفت” کی تصدیق کی ہے لیکن تسلیم کیا ہے کہ “ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے”۔ عباس عراقچی نے بھی اعتراف کیا کہ اختلافات کو کم کرنے میں “وقت درکار ہوگا”۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اگرچہ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہوا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان بنیادی عدم اعتماد اور علاقائی مفادات کا تصادم کسی حتمی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
