بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد ہلاک
کراچی کے علاقے سولجر بازار نمبر 3 میں ایک رہائشی عمارت میں سلینڈر دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں چار بچے اور چھ خواتین شامل ہیں جبکہ 14 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکہ بدھ کی رات پہلی منزل پر ہوا جس سے عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔
ریسکیو آپریشن کی تفصیلات
ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجر نے ابتدائی معلومات کی روشنی میں دھماکے کی ممکنہ وجہ گیس کی لیک بتائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملبے میں اب بھی ایک لاش کے دبے ہونے کا خدشہ ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ لنجر کے مطابق دھماکے کی اصل نوعیت کا تعین کیمیائی معائنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
ہلاک شدگان کی شناخت
ریسکیو ٹیموں نے کئی افراد کو ملبے سے نکالا۔ ہلاک شدگان میں 10 سالہ نازیہ اور 60 سالہ محمد ریاض شامل ہیں۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ 17 سالہ اور 19 سالہ دو لڑکیوں کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ بعد میں 18 سالہ ایک خاتون کی لاش بھی ملی۔ ایک 14 سالہ بچی کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔
آپریشن کا نیا مرحلہ
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت میں تلاشی کا آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور اب ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے علاقے کو ہر طرف سے سیل کر دیا ہے اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی ایسٹ نے کہا کہ متعلقہ محکمہ یہ تعین کرے گا کہ عمارت قانونی تھی یا غیر قانونی، اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
