معیشت میں استحکام، افراط زر میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تعریف
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے اصلاحات پر پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی پالیسی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔ فنڈ کے ترجمان جولی کوزاک نے تصدیق کی کہ ایک اسٹاف ٹیم 25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ توسیعی فنڈ کی سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے اور لچک و استحکام کی سہولت (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے پر بات چیت ہو سکے۔
اہم اقتصادی اشاریوں میں بہتری
کوزاک کے مطابق، مالی سال 2025 میں پاکستان نے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا 1.3 فیصد بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو پروگرام کے ہدف کے مطابق ہے۔ افراط زر کو نسبتاً قابو میں رکھا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 سال میں پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی اور بدعنوانی کی تشخیصی رپورٹ حال ہی میں شائع ہوئی ہے، جس میں ٹیکس پالیسی کو آسان بنانے، عوامی خریداری میں مسابقت کو بہتر بنانے اور اثاثوں کے اعلانات میں شفافیت لانے سمیت اصلاحات کے تجاویز پیش کیے گئے ہیں۔
حکمرانی کے لیے 15 نکاتی ایکشن پلان
آئی ایم ایف کے آنے والے مشن سے قبل، پاکستان نے حکمرانی و تشخیصی جائزہ رپورٹ (جی سی ڈی) کے جواب میں ایک 15 نکاتی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ اس میں بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ٹاپ 10 وفاقی ایجنسیوں کی نشاندہی کرنا اور معاشی تنازعات کے بیک لاگ کو کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ پلان کے تحت عدالتوں اور ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک طریقہ کار تیار کیا جائے گا۔
منی لانڈرنگ کے خلاف قانونی اصلاحات
تفصیلی 240 صفحات پر مشتمل ایکشن پلان کے مطابق، ایک مشترکہ ورکنگ گروپ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کا قانونی جائزہ لے گا تاکہ اس بات کی وضاحت ہو سکے کہ کیا منی لانڈرنگ کے مقدمے کی سماعت کے لیے کسی بنیادی جرم کی سزا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ تعریفی وضاحت، عمل کی صراحت اور تحقیقی اختیارات جیسے شعبوں میں دیگر ترامیم کی نشاندہی کی جائے گی۔ ان ترامیم کو جون 2027 تک پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
مرکزی بدعنوانی رسک تشخیصی فریم ورک
قومی احتساب بیورو (نیب) بدعنوانی پر قومی خطرے کا جائزہ تیار کرے گا اور اسے قومی اینٹی کرپشن ٹاسک فورس کے پاس لائے گا۔ یہ ٹاسک فورس اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی کے تحت قائم کی جائے گی اور یہ تمام متعلقہ ایجنسیوں کے لیے ایک مرکزی ‘بدعنوانی رسک تشخیصی فریم ورک’ کو حتمی شکل دے گی تاکہ مختلف اداروں میں بدعنوانی کے خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
گزشتہ سال دسمبر میں، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے ای ایف ایف کے تحت پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے دوسرے جائزے کے بعد ملک کے لیے 1.2 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی تھی۔ آنے والا مشن اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
