سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدگی میں خطرناک اضافہ
اسلام آباد۔ پاکستان نے افغان دارالحکومت کابل اور قندھار پر جمعہ کے روز فضائی حملے کیے اور طالبان حکومت کے خلاف ‘کھلی جنگ’ کا اعلان کر دیا۔ یہ کارروائی سرحدی علاقے میں افغان فوج کی طرف سے ہونے والی کارروائی کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسے ‘مناسب جواب’ قرار دیا جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ “ہماری صبر کی حد پہنچ چکی ہے۔ اب آپ اور ہمارے درمیان کھلی جنگ ہے۔”
دونوں اطراف سے فوجی کارروائیوں کی تصدیق
کابل میں موجود اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے صبح سویرے زوردار دھماکے اور جنگی جہازوں کی آوازیں سنیں۔ قندھار میں بھی اسی طرح کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سرحدی علاقے طورخم کے قوں تقریباً 9:30 بجے توپ خانے اور ہلکے اسلحے کی فائرنگ کی آوازیں آئیں۔ پاکستانی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ فضائی حملوں کا نشانہ کابل، قندھار اور سرحدی صوبہ پکتیکا میں طالبان کے دفاعی اہداف تھے۔
سرحدی کشیدگی کی طویل تاریخ
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کئی مہینوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ اکتوبر میں ہونے والے تصادم کے بعد زمینی سرحدی گذرگاہیں بند ہیں۔ جمعرات کو افغان فوج نے ‘بڑے پیمانے پر حملوں’ کا اعلان کیا تھا جو گزشتہ ہفتے پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں تھے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ افغان فوج نے پندرہ پاکستانی چوکیاں قبضے میں لی ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور امن کوششیں
- ایران کے وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں معاونت کی پیشکش کی۔
- چین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جلد از جلد جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
- سعودی عرب اور ملائیشیا نے بھی کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔
انسانی نقصان اور سفارتی کوششیں
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم 13 شہری ہلاک ہوئے۔ افغان وزارت دفاع کے مطابق جمعرات کی زمینی کارروائی میں آٹھ افغان فوجی مارے گئے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں قطر اور ترکی کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی ناکام ہو چکی ہے۔ سعودی عرب کی مداخلت سے تین پاکستانی فوجیوں کی رہائی ممکن ہوئی تھی جو اکتوبر میں گرفتار ہوئے تھے۔
پاکستان طالبان حکومت پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دے رہی ہے، جسے طالبان حکومت مسترد کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحدی گذرگاہیں صرف افغان شہریوں کے لیے کھلی ہیں جو اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں۔
