خلیجی تنازعہ پھیلتا ہوا، متعدد محاذوں پر جاری جھڑپیں
خلیجی خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران کے مختلف صوبوں میں دھماکے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، دارالحکومت تہران، یزد اور اصفہان صوبوں میں شدید دھماکے سنائی دیے ہیں۔
ایران کے جوابی حملے اور علاقائی اثرات
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں واقع امریکی اڈے، العادری ایئربیس پر ڈرونز اور میزائل حملہ کیا ہے۔ ایرانی خبررساں ادارے فارس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں ہیلی کاپٹر مرمت کی سہولیات، ایندھن کے ذخائر اور اڈے کا کمانڈ سینٹر تباہ ہو گیا۔
کویت کے اندرونی امور کے وزارت نے اعلان کیا ہے کہ دو اہلکار “ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے” ہلاک ہو گئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ ایران سے روانہ ہونے والے ڈرونز یا میزائلز کو روکنے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کشمکش
چینی وزیر خارجہ نے خطے میں جنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا”۔ دوسری جانب، روس نے واضح کیا ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں بلکہ ایران کی حمایت کرتا ہے۔
امریکہ نے ایرانی دعوےٰ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فوج نے امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ساحلی ممالک پر اثرات اور انسانی نقصان
- دبئی میں ہوا میں ہی نشانہ بنائے گئے میزائل کے ملبے سے ایک پاکستانی شہری ہلاک ہو گیا۔
- ہرمز کے آبنائے میں متحدہ عرب امارات کے ایک ٹگ بوٹ کے ڈوبنے سے تین انڈونیشیائی عملہ لاپتہ ہیں۔
- قطر ایئر ویز نے دوحہ سے آنے جانے والی پروازوں کو محدود کر دیا ہے۔
اسرائیلی دھمکیاں اور مستقبل کے خطرات
اسرائیلی فوج نے فارسی زبان میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہر جانشین کا پیچھا کرے گی۔ اس بیان میں ان افراد کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے جو خامنہ ای کا جانشین مقرر کرنے کی کوشش کریں گے۔
بحر ہند میں بحری جھڑپ اور سفارتی دباؤ
امریکی ذرائع کے مطابق، امریکہ سری لنکا پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایک ایرانی جنگی جہاز کے بچ جانے والے عملے کو واپس نہ بھیجے جسے امریکی آبدوز نے بحر ہند میں ڈبو دیا تھا۔ اس واقعے میں درجنوں ایرانی ملاح ہلاک ہوئے تھے۔
خطے میں صورت حال انتہائی نازک ہے اور خدشہ ہے کہ یہ تنازعہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ تمام فریقوں سے پرامن حل کے لیے بات چیت کی اپیل کی جا رہی ہے۔
