بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آپریشن غضب للہق کے دوران کارروائیاں
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں پانچ علیحدہ خفیہ آپریشنز کے دوران 13 ہندوستان نواز دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ آپریشنز 6 اور 7 مارچ کی درمیانی شب انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے۔
مختلف اضلاع میں آپریشنز کی تفصیلات
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، باجوڑ ڈسٹرکٹ میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی پوزیشن پر کارروائی کی جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد پانچ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ اسی طرح بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں دو دیگر آپریشنز میں تین دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔
خیبر اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں دو علیحدہ آپریشنز میں مزید پانچ دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوئے ہیں۔
آپریشن غضب للہق اور سرحدی چیلنجز
یہ آپریشنز اس وقت کیے گئے ہیں جب پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر ابھرنے والے سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کر رہا ہے اور آپریشن غضب للہق جاری ہے۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
- آپریشن غضب للہق کے دوران کم از کم 527 افغان طالبان جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
- 755 سے زائد افغان طالبان جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔
- 237 چیک پوسٹس تباہ کی گئی ہیں۔
- 205 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے ختم کیے گئے ہیں۔
ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے “عزم استحکام” کے ویژن کے تحت ملک سے بیرونی مدد سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز کسی بھی دیگر ہندوستان نواز دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے صفائی کے آپریشنز جاری رکھیں گی۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے اپنے عزم میں پختہ اور ثابت قدم ہیں۔ یہ آپریشنز اس عزم کا اظہار ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
