انتخاب کا اعلان
ایران کے اعلیٰ ترین مذہبی ادارے ‘اسمبلی آف ایکسپرٹس’ نے منگل کی درمیانی شب مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب گذشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔
دشمن کی نفرت کا معیار
اسمبلی کے رکن آیت اللہ محسن حیدری الیکسیر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ نئے رہنما کا انتخاب ان ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے جو مرحوم خامنہ ای نے چھوڑی تھیں۔ ان کے مطابق ایران کے اعلیٰ ترین رہنما کی ایک خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ “دشمن اس سے نفرت کرے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ “یہاں تک کہ عظیم شیطان (امریکہ) نے بھی اس کا نام لیا ہے”۔
امریکی ردعمل اور دیگر امیدوار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخاب سے قبل ہی کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ان کے لیے ‘ناقابل قبول’ انتخاب ہوں گے۔ دیگر ممکنہ امیدواروں میں علی رضا عارفی، محسن اراکی اور حتیٰ کہ اسلامی جمہوریہ کے بانی روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی شامل تھے۔
طاقت کا مرکز
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے دور میں اپنی طاقت میں اضافہ کیا اور سلامتی فورسز اور وسیع کاروباری سلطنت کے قریب ترین شخص کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنے والے اصلاح پسندوں کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔
- ان کے انقلابی گارڈز کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں
- انہوں نے اپنے والد کے ‘گیٹ کیپر’ کے طور پر پشت پردہ اثر و رسوخ قائم کیا
- انہیں 2019 میں امریکی ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا
مخالفت کے چیلنجز
نئے سپریم لیڈر کو ان ایرانیوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے جو گذشتہ برسوں میں وسیع پیمانے پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔ ایران میں سپریم لیڈر کو خارجہ پالیسی اور جوہری پروگرام سمیت ریاستی معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
ذاتی زندگی اور پس منظر
مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایران عراق جنگ میں بطور جوان خدمات انجام دیں۔ قم کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں حجت الاسلام کا درجہ ملا۔ انہوں نے کبھی بھی حکومت میں کوئی سرکاری عہدہ سنبھالا نہیں، البتہ وہ حامی حکومت ریلیوں میں ضرور نظر آتے رہے ہیں۔
خاندانی المیہ
مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد عادل، جو سابق اسپیکر پارلیمنٹ کی بیٹی تھیں، بھی ان ہی فضائی حملوں میں شہید ہو گئیں جن میں ان کے والد جاں بحق ہوئے تھے۔
اسرائیلی انتباہ
اسرائیل نے نئے سپریم لیڈر اور ان کے انتخاب کرنے والوں کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ “اسرائیلی ریاست کا ہاتھ کسی بھی جانشین اور اسے مقرر کرنے والے کے تعاقب میں رہے گا”۔
اسمبلی آف ایکسپرٹس
88 اراکین پر مشتمل یہ اسمبلی ہر آٹھ سال بعد انتخابات کے ذریعے تشکیل دی جاتی ہے۔ اس سے قبل یہ ادارہ صرف ایک بار 1989 میں آیت اللہ خامنہ ای کے انتخاب کے موقع پر رہنمائی کے انتقال کا عمل دیکھ چکا ہے۔
