بیلجیم کے شہر لیج میں صبح تقریباً چار بجے ایک عبادت گاہ کے باہر دھماکا ہوا جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
میئر لیج نے یہودی دشمنی کا الزام عائد کیا
لیج کے میئر ولی ڈیمیئر نے اس دھماکے کو یہودی دشمنی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ انتہائی تشدد آمیز یہودی دشمنی کا عمل ہے جو لیج کی باہمی احترام کی روایت کے بالکل خلاف ہے۔ ہمارے شہر میں بیرونی تنازعات درآمد کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
دھماکے سے گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں
مقامی رہائشیوں کے مطابق دھماکے کی زد میں عبادت گاہ کی مرکزی کھڑکی کے علاوہ سامنے کے مکانات کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئی ہیں۔ ایک رہائشی نے بتایا، “ہم آواز سے جاگ گئے اور نیچے اتر کر دیکھا تو سب کچھ اڑا ہوا تھا۔”
تفتیشی کارروائی جاری، فوجی ماہرین طلب
- پولیس نے تفتیش کے دوران سڑک بند کر دی ہے اور اردگرد علاقے میں حفاظتی پیمانہ قائم کیا ہے۔
- وفاقی عدالتی پولیس کی دہشت گردی کی ڈویژن کے تفتیش کاروں نے ابتدائی کارروائی شروع کر دی ہے۔
- دفاع کے دھماکا خیز مواد ہٹانے اور تباہ کرنے کی خدمات کے ماہرین لیج کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ممکنہ مجرمانہ نوعیت کے ہر دھماکے کے بعد ان ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ مقام حادثہ کو سفید چادروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
