سلامتی کونسل میں پاکستانی سفیر نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی وکالت کی
نیویارک: پاکستان نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صرف پرامن اور مذاکاتی حل ہی مزید شہری ہلاکتوں، خطے میں عدم استحکام اور توانائی کی سپلائی میں خلل کو روک سکتا ہے۔
پاکستانی سفیر کا جامع بیان
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “جس تنازعے کا ہم اس وقت مشاہدہ کر رہے ہیں اس کے نتائج واضح ہیں – ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے۔ یہ ایسا تنازعہ ہے جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔” انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
بحرین اور روس کی قراردادوں کی حمایت
سفیر احمد نے اعلان کیا کہ پاکستان بحرین اور روسی فیڈریشن کی طرف سے پیش کردہ دو مسودہ قراردادوں کی حمایت کرتا ہے، جو جنگ بندی اور مذاکات کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم بحرین اور روسی فیڈریشن کے نمائندوں کا ان کی متعلقہ مسودہ قراردادوں کی پیشکش پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔”
خلیجی ممالک کے ساتھ یکجہتی
بحرین کی قرارداد کے حق میں پاکستان کے ووٹ کو خلیجی ممالک کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہمارا مثبت ووٹ بھائی چارے کے ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے لیے پاکستان کی مضبوط حمایت کی علامت ہے۔”
انسانی و معاشی اثرات
سفیر نے تنازعے کے انسانی و معاشی اثرات پر روشنی ڈالی، یہ بتاتے ہوئے کہ متحدہ عرب امارات پر حملوں میں کم از کم دو پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں اور خلیج میں لاکھوں پاکستانی شہری خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہماری ایندھن کی سپلائی سنجیدگی سے متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو تیل، گیس اور بجلی کے استعمال میں تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑے ہیں۔ کئی ضروری ہوائی رابطے منقطع ہو گئے ہیں، جبکہ دیگر میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔”
بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور
انہوں نے طاقت کے تمام غیر قانونی استعمال کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “اقوام متحدہ کے چارٹر کی حدود سے باہر طاقت کا کوئی بھی استعمال غیر قانونی اور قابل مذمت ہے۔”
مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت
سفیر احمد نے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “ہم تمام متنازعہ مسائل کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف فوری واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پرامن بقائے باہمی کی بنیادوں کو بحال کرنے کے لیے مخلصانہ عزم اور حقیقی سیاسی مرضی درکار ہے۔”
ثالثی کی کوششوں کو سراہا
انہوں نے خطے میں جاری ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہا ہے۔ انہوں نے اپنی بات کا اختتام پرامن حل کے لیے تمام فریقین سے تحمل اور مذاکات کی واپسی کی اپیل کرتے ہوئے کیا۔
