مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 2024 کے ہتک عزت کے قانون کے تحت عدالتوں کا رخ کیا جائے گا
پنجاب حکومت نے صوبائی حکومت کے سرکاری طیارے کے استعمال کے حوالے سے پھیلائی جانے والی مبینہ غلط اطلاعات کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اتوار کے روز کہا کہ صوبائی حکومت 2024 کے ہتک عزت کے قانون کے تحت ہر اس فرد اور پلیٹ فارم کے خلاف عدالت کا رخ کرے گی جو اس مبینہ غلط معلومات کو پھیلانے میں ملوث ہے۔
جھوٹی خبروں کے خلاف واضح پیغام
مریم اورنگزیب نے ایک سماجی میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ “غلط معلومات کا اب کوئی جواب دیے بغیر نہیں رہا جائے گا۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ “جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اداروں کو بدنام کر سکتے ہیں اور عوام کو گمراہ کر سکتے ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کرے گی تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ “جھوٹی خبریں صحافت نہیں بلکہ ہتک عزت ہیں۔”
طیارے کی خریداری پر سیاسی تنازعہ
ان تبصروں کے پس منظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے گلف اسٹریم کاروباری جیٹ کی خریداری پر سیاسی تنازعہ چل رہا ہے، جس کی مالیت تقریباً 10 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس خریداری پر تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ طیارہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔
حکومتی وضاحت اور ‘ایئر پنجاب’ منصوبہ
تاہم، پنجاب کے وزیر اطلاعات اعظمہ بخاری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت تجویز کردہ “ایئر پنجاب” اقدام کے تحت ایک بیڑا تیار کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بخاری کے مطابق، کچھ ہوائی جہاز خریدے جائیں گے جبکہ کچھ کرایے پر حاصل کیے جائیں گے، اور گلف اسٹریم جیٹ اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔
طیارے کی تفصیلات اور آپریشن
ہوا بازی کے ذرائع کے مطابق، پنجاب حکومت نے امریکی رجسٹریشن نمبر N144S کے ساتھ ایک گلف اسٹریم G500 طیارہ حاصل کیا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ سات سال پرانا یہ جیٹ 28 دسمبر کو لاہور پہنچا تھا۔
- طیارہ تقریباً 40 دن تک لاہور ایئرپورٹ پر کھڑا رہا، جہاں اس کی اندرونی مرمت اور سجاوٹ کی گئی۔
- جیٹ نے اپنی پہلی ڈومیسٹک پرواز 6 فروری کو لاہور سے ملتان کے لیے کی۔
- اس کے بعد سے یہ “پنجاب2” کال سائن کے تحت کوئٹہ، میانوالی، سیالکوٹ اور راولپنڈی سمیت مختلف مقامات کے لیے کئی پروازیں چلا چکا ہے۔
حکومتی ترجمان کے مطابق، یہ قانونی اقدام جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور عوامی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کے خلاف ایک مضبوط موقف کی علامت ہے۔
