نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو معطل رکھنے کے یکطرفہ فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام “آب کو ہتھیار بنانے” کے مترادف ہے۔
عالمی یوم آب کے موقع پر تنازعہ
یہ تبادلہ خیال عالمی یوم آب کے موقع پر منعقدہ ایک اعلی سطحی تقریب کے دوران ہوا جہاں پاکستان کے دوسری سیکرٹری علی نہ مجید نے بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں اپنا حق جواب استعمال کیا۔ بھارت کے نمائندے نے کہا تھا کہ دہلی اس معاہدے کو “معطل” رکھے گا جب تک کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف قابل اعتماد اور ناقابل واپسی کارروائی نہیں کرتا۔
پاکستان کا قانونی موقف
علی نہ مجید نے جوابی بیان میں زور دیا کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگیں، بحران اور طویل سیاسی کشیدگی کے باوجود قائم رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “بھارت کا گزشتہ سال اپریل میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل قرار دینے کا فیصلہ اس کے قانونی اور تاریخی ورثے سے سنگین انحراف ہے۔ معاہدے کی کوئی شق یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی اجازت نہیں دیتی۔”
بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کا حوالہ
انہوں نے کورٹ آف آربیٹریشن میں جاری قانونی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 کے ایک اضافی فیصلے میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ معاہدہ اب بھی نافذ العمل ہے اور اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار مکمل طور پر قابل عمل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے مطابق نہ تو کوئی فریق یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل یا غیر موثر بنا سکتا ہے۔
دہشت گردی کے الزامات کی تردید
پاکستانی نمائندے نے بھارت کے دہشت گردی کے الزامات کو “سراسر بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کی اپنی سرکاری تشدد اور سرحد پار کارروائیوں کی تاریخ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث عسکریت پسند گروہوں کو بھارت کی حمایت کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں، جن کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے۔
لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ
مجید نے خبردار کیا کہ بھارت کے یہ اقدام تنگ سیاسی مفادات کے لیے “آب کو ہتھیار بنانے” کے برابر ہیں جو دریائی نظام پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی ذمہ داریوں کے وفادارانہ نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔
