امریکی صدر نے میامی میں منعقدہ سرمایہ کاری فورم سے خطاب میں کیوبا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک سرمایہ کاری فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ “کیوبا اگلا ہدف ہے” جبکہ انہوں نے وینزویلا اور ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کی کامیابیوں کو سراہا۔
ٹرمپ نے میامی بیچ، فلوریڈا میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو (ایف آئی آئی) انسٹی ٹیوٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “میں نے یہ عظیم فوج بنائی ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ‘آپ کو کبھی اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔’ لیکن بعض اوقات آپ کو اسے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اور ویسے، کیوبا اگلا ہدف ہے۔”
فوجی کارروائی کا عندیہ اور پھر انکار
امریکی صدر نے واضح طور پر نہیں بتایا کہ وہ جزیرہ نما ملک کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے فوراً بعد ہی اپنے بیان سے انکار کرتے ہوئے مزید کہا، “لیکن یہ سمجھیں کہ میں نے یہ نہیں کہا۔ یہ سمجھیں کہ میں نے نہیں کہا۔”
ٹرمپ اکثر کہتے رہے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ ہوانا میں موجود حکومت، جو شدید معاشی بحران کا شکار ہے، ٹوٹنے کے قریب ہے۔ ان کی انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں کیوبا کی قیادت کے بعض عناصر کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔
کیوبا کی معاشی مشکلات اور تیل کی قلت
کیوبا کی معیشت تیل کی درآمدات میں رکاوٹوں سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس پر وہ بجلی گھروں اور نقل و حمل کو چلانے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ وینزویلا، جو جنوری میں برطرف ہونے والے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری سے پہلے کیوبا کی زیادہ تر تیل کی ضروریات پوری کرتا تھا، نے واشنگٹن کے دباؤ میں ان ترسیل کو ختم کر دیا ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے تسلیم کیا ہے کہ ملک ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ مارچ کے شروع میں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ کیوبا “دوستانہ قبضے” کا نشانہ بن سکتا ہے، اس سے پہلے کہا: “یہ دوستانہ قبضہ نہیں ہو سکتا۔”
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
ٹرمپ کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کی ہے، خاص طور پر اس وقت جب کیوبا پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بیان خطے میں امریکی خارجہ پالیسی کے ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے۔
- کیوبا کی حکومت امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے
- وینزویلا سے تیل کی ترسیل بند ہونے سے معیشت متاثر
- ٹرمپ نے فوجی طاقت کے استعمال کا عندیہ دیا
- بین الاقوامی برادری کی طرف سے ردعمل کا انتظار
اس صورتحال نے علاقائی استحکام کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ نے حال ہی میں ایران اور وینزویلا میں فوجی مداخلت کی ہے۔ کیوبا کی طرف سے اب تک کوئی سرکاری فوجی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن صدر ڈیاز کینل کی جانب سے مذاکرات کی تصدیق نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی نشاندہی کی ہے۔
