پیٹرولیم ڈویژن کا نوٹیفکیشن
وفاقی حکومت نے کیروسین آئل کی قیمت میں 4.66 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 433.40 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ 28 مارچ سے نافذ العمل ہے۔ تاہم، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 321.17 روپے اور 335.86 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہیں۔
وزیراعظم کی مداخلت اور قومی خطاب
قیمتوں کے اعلان سے چند گھنٹے قبل، وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے پٹرول کی قیمت میں 95 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کے خلاصے کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صارفین کے تحفظ کے لیے 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ اٹھائے گی۔
حکومتی سبسڈی کا بندوبست
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق، حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ سیس کے تحت پٹرول پر 95.59 روپے اور ڈیزل پر 203.88 روپے فی لیٹر ادا کرے گی۔ یہ اقدام عالمی تیل کے بازار میں نمایاں اضافے کے باوجود گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
بین الاقوامی تناظر اور سفارتی کوششیں
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بات چیت میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے، جس کی قیادت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک دن رات امن کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔
ماہرین کی رائے اور مستقبل کے خدشات
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کا یہ بحران پاکستان کی درآمدی تیل پر انحصار کی خطرناک صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی بازاروں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں جاری تناؤ کے پیش نظر، ایندھن کی قیمتوں میں مستقبل قریب میں مزید ایڈجسٹمنٹ کا امکان موجود ہے۔
