اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے اپنے زیر زمین اڈوں کی نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں درمیانی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور فضائی دفاعی نظاموں کے وسیع ذخائر دکھائے گئے ہیں۔
میڈیا میں جاری ویڈیو میں کیا دکھایا گیا؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں میزائل لانچرز اور انٹرسیپٹر میزائل کے کنٹینرز کے بڑے ذخائر دکھائے گئے ہیں جو ایک مضبوط زیر زمین مقام پر محفوظ ہیں۔ بی بی سی کے صحافی فرزاد سیفی کاران کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ آئی آر جی سی کے “زیر زمین میزائل شہروں” میں سے ایک ہے۔
ریل نیٹ ورک کا نظام
ان زیر زمین شہروں میں میزائل کو ذخیرہ گاہوں سے لانچ پوائنٹس تک منتقل کرنے کے لیے ریل نیٹ ورک کا ایک نظام نصب ہے۔ فرزاد سیفی کاران نے وضاحت کی کہ یہ کوئی نیا نظام نہیں ہے، بلکہ آئی آر جی سی نے 2020 میں ہی ریل کے ذریعے میزائل کی نقل و حمل کا یہ نظام عوامی طور پر پیش کر دیا تھا۔
پیچیدہ اور گہرے سرنگوں کا نیٹ ورک
یہ تنصیبات پہاڑی علاقے کے نیچے کافی گہرائی میں تعمیر کی گئی ہیں۔ صحافی کے مطابق، “ان سرنگوں سے بننے والے نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ، وسیع، گہرے اور کئی پرتوں پر مشتمل ہیں، یہاں تک کہ مختلف حصوں کے درمیان داخلی رسائی نہ تو آسان ہے اور نہ ہی سہل۔”
خرداد-15 میزائل سسٹم
اس زیر زمین مقام پر ایران میں تیار کردہ زمین سے ہوا میں مار کرنے والا خرداد-15 میزائل سسٹم بھی موجود ہے، جسے پہلی بار 2019 میں ایران کے سابق وزیر دفاع امیر حاتمی نے متعارف کرایا تھا۔ یہ سسٹم صیاد-3 ہدایت شدہ میزائل استعمال کرتا ہے جو امریکی ایف-35 جیسے ہوائی اہداف کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سسٹم کی صلاحیتیں
ایرانی فوجی اہلکاروں کے مطابق، خرداد-15 سسٹم ایک وقت میں چھ مختلف ہدفوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نظام 150 کلومیٹر تک کے فاصلے پر ہوائی جہازوں اور بغیر پائلٹ والے ڈرونز دونوں سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈز کور کا دعویٰ ہے کہ ان نظاموں نے ایک ایف-35 لڑاکا جہاز کو گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
