چین کی ثالثی میں افغانستان اور پاکستان کے مابین مذاکرات میں پیش رفت
وزیر اطلاعات عطاء اللہ ترار نے کہا ہے کہ جاری آپریشن غضب للہ حق کے دوران افغان طالبان حکومت کے 796 ارکان اور دہشت گرد ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک سماجی میڈیا پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ طالبان حکومت کی 286 چوکیاں تباہ اور 44 قبضے میں لی گئی ہیں۔ انہوں نے تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ کابل حکومت کے 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ اور ڈرون سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تباہ ہوئے۔
چین کا امن مذاکرات کو مثبت قرار دینا
چین نے جمعہ کے روز کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات مستحکم طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ دونوں ممالک چین کی ثالثی کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ مناسب حالات پیدا کرنے اور ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ مذاکرات چین کے شہر ارومچی میں ہو رہے ہیں۔
پاکستانی وفد کی چین روانگی کی تصدیق
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ پاکستان نے افغانستان سے مذاکرات کے لیے ایک وفد چین بھیجا ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی سینئر سرکاری عہدیدار کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر نظرثانی نہیں کرے گا۔
سرحدی تاروں کی ہٹانے کی اطلاعات کی تردید
وزارت اطلاعات نے پاک افغان سرحد پر باڑ کی تاروں کے ہٹائے جانے کے بارے میں افغان طالبان حکومت اور ہندوستانی ذرائع کی طرف سے پھیلائی گئی اطلاعات کو جھوٹا اور حقیقت سے عاری قرار دیا ہے۔ وزارت نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
افغان شہریوں کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع
تورخم بارڈر پر دستاویزات سے محروم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل منگل کے روز دوبارہ شروع ہو گیا۔ بارڈر اہلکاروں کے مطابق مختلف شہروں سے لائے گئے 11 افغان شہریوں کو حمزہ بابا ٹرانزٹ کیمپ منتقل کیا گیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں افغان بارڈر اتھارٹیز کے حوالے کر دیا گیا۔
آپریشن کی بحالی اور حکمت عملی
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو وضاحت کی کہ آپریشن غضب للہ حق میں عید الفطر کے بعد دیا گیا وقفہ 24 مارچ کو ختم ہو گیا تھا اور آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان کی حمایت کرتی رہے گی اور پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال ہوتا رہے گا۔
افغانستان میں مزاحمتی تحریکوں میں شدت
طالبان حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف افغانستان میں مزاحمتی تحریکیں تیز ہو گئی ہیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے گزشتہ ایک سال کے دوران 401 ہدف پر حملوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کابل میں 126 آپریشنز کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مزاحمت اس بات کی واضح علامت ہے کہ افغان عوام طالبان کی جابرانہ حکومت سے بیزار ہیں۔
پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عزم کی تجدید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے پاکستان دن کے موقع پر جاری بیان میں کہا کہ افغانستان کے اندر پاکستان کی کارروائیاں اسی مقصد کے حصول کے لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک تنازعے کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پر قائم ہے۔
افغان پناہ گاہوں سے دہشت گردی روکنے کا عہد
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے زور دے کر کہا ہے کہ افغانستان میں سرحد پار پناہ گاہوں سے کام کرنے والے دہشت گردوں کو پاکستان کی سلامتی کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کرم میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ عید الفٹر مناتے ہوئے فوج کی بے لوث خدمات کو سراہا۔
