ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا امریکی وفد پر اعتماد نہ کرسکنے کا الزام
اسلام آباد: ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے دوران واشنگٹن، تہران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ قالیباف خود ان اہم مذاکرات میں ایرانی وفد کا حصہ تھے۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا، “ایرانی وفد کے میرے ساتھیوں نے تعمیری اقدامات پیش کیے لیکن آخرکار دوسرا فریق اس دور مذاکرات میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔”
پاکستان کی ثالثی اور 20 گھنٹے سے زائد مذاکرات
امریکہ اور ایران کے وفود نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں 20 گھنٹے سے زائد اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے، جس میں پاکستان نے دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔
مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر اختتام کو پہنچے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ تہران نے واشنگٹن کی شرائط مسترد کر دیں، جنہیں ایرانی سرکاری میڈیا نے “غیر معقول” قرار دیا۔
امریکی نائب صدر کا ردعمل اور ایرانی موقف
مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ بات چیت میں متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا، “بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے، اور میرے خیال میں یہ امریکہ سے کہیں زیادہ ایران کے لیے بری خبر ہے۔ ہم کوئی معاہدہ کیے بغیر امریکہ واپس جا رہے ہیں۔ ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔”
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بعد میں کہا کہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ تہران اور واشنگٹن ایک ہی ملاقات میں معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔
پچھلی جنگی تجربات اور اعتماد کا بحران
قالیباف نے کہا کہ پچھلی دو جنگوں کے تجربات کی وجہ سے مذاکرات میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایران کا “مخالف فریق” پر اعتماد نہیں تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن اب فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ “امریکہ ہمارے منطق اور اصولوں کو سمجھ چکا ہے، اور اب اس کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔”
انہوں نے عہد کیا کہ ایرانی وفد “چھ ہفتوں کی جنگ کے دوران ایران کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں سے ایک لمحے کے لیے بھی باز نہیں آئے گا۔”
پاکستان کے کردار کی تعریف اور تنازعے کی تاریخ
قالیباف نے مذاکرات کو ممکن بنانے میں پاکستان کے اہم کردار کو تسلیم کیا اور پاکستانی عوام کو سلام بھیجا۔
انہوں نے عوامی حمایت اور مذاکرات کی شدت کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی عوام اور مذاکراتی ٹیم دونوں کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا، “ان شدید 21 گھنٹے کے مذاکرات میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں: بہت خوب… ہمارا عزیز ایران زندہ و پائندہ رہے۔”
یہ تنازعہ 28 فروری کو امریکہ اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا جس میں ایران کی قیادت اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں 2,000 سے زائد اموات ہوئیں اور خطے میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہوا۔
تہران نے ہرمز کے آبنائے میں جہاز رانی میں رکاوٹ اور خطے میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں سمیت انتقامی کارروائیوں کا جواب دیا۔
دونوں فریقوں کے منصوبے اور مستقبل کے امکانات
- 8 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
- واشنگٹن نے جو 15 نکاتی فریم ورک پیش کیا وہ جوہری اور میزائل کے مسائل، پابندیوں میں نرمی اور ہرمز کے آبنائے کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز تھا۔
- تہران نے ہرمز کے آبنائے پر زیادہ کنٹرول، ٹرانزٹ فیس اور جامع پابندیوں کے خاتمے کی خواہش کرتے ہوئے ایک 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات کے باوجود، قالیباف کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں، لیکن امریکہ کو اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
