مارسیل کے خصوصی اساسی عدالت کا فیصلہ
مارسیل کے مجرمانہ گروہ ڈی زی مافیا کا سرغنہ سمجھے جانے والے امین اوعلان کو منگل کے روز دوہرے قتل کے مقدمے میں بری کر دیا گیا۔ تاہم، اس کے چار ساتھیوں کو 15 سے 25 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ یہ فیصلہ بوچس-ڈو-رہون کی خصوصی اساسی عدالت نے تین ہفتے طویل عدالتی کارروائی کے بعد سنا۔
کیس کی تفصیلات اور الزامات
یہ مقدمہ 2019 میں ایک ہوٹل کے کمرے میں ہونے والے دوہرے قتل سے متعلق تھا، جس کا تعلق منشیات کی سمگلنگ سے بتایا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ڈی زی مافیا کے قیام سے پہلے کا ہے۔ کل چھ ملزمان میں سے پانچ موجود تھے، جبکہ چھٹا فراری ہے۔
- امین اوعلان: بری (حکومت کی جانب سے 18 سال قید کی درخواست تھی)
- گیبریل اوری: 25 سال قید (قتل کی تیاری میں معاونت)
- کریم حراط اور ولید بارا: دونوں کو 25 سال قید (قتل کے مرتکب، بارا غیر حاضر)
- زین الدین احمدہ: 25 سال قید (بندوق بردار)
- ایڈرین فورے: 15 سال قید (ساتھی)
عدالتی کارروائی اور ردعمل
امین اوعلان نے اپنے اختتامی بیان میں مقدمے کو “سیاسی” قرار دیتے ہوئے الزامات کی سختی سے تردید کی۔ فیصلہ سنتے ہی ان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ ان کی وکیل مس اینس میڈیون نے کہا، “یہ انصاف کی فتح ہے۔”
دوسری طرف، گیبریل اوری کی وکیل مس کرسٹین ڈریگو نے فیصلے کو “سیاسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “میڈیا کے دباؤ کا اثر زیادہ رہا۔” قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ سزائیں حکومتی وکیل کی جانب سے تین ملزمان کے خلاف عمر قید کی درخواست سے کہیں کم ہیں۔
عدالت میں سکیورٹی اور پس منظر
فیصلہ سنانے کے دوران عدالت میں سخت سکیورٹی انتظامات تھے، جہاں 15 مسلح پولیس اہلکار موجود تھے۔ یہ فیصلہ کئی دن کی تاخیر کے بعد آیا، جس دوران عدالتی کارروائی میں کشیدہ ماحول رہا۔
یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈی زی مافیا کے خلاف حالیہ وسیع پیمانے پر کارروائی میں 42 افراد گرفتار ہوئے ہیں، جو فرانس میں منظم جرائم کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
