صدر شی جن پنگ کا امریکی ناکہ بندی کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دینا
چینی صدر شی جن پنگ نے بحیرہ عرب میں امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کو “خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ” قرار دیتے ہوئے فوری اور جامع جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے منگل کو اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ “ہم دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جانے دے سکتے”۔ یہ چین کی جانب سے ایران کے موجودہ بحران پر اب تک کی سب سے واضح اور سخت ترین عوامی بیان بازی ہے، جس سے خطے میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ کا اشارہ ملتا ہے۔
پیچیدہ سفارتی توازن: ایران کا اعتماد، امریکہ سے تعلقات
فوجی محاذ پر براہ راست ملوث ہوئے بغیر، چین اقتصادی اور سفارتی محاذ پر ایک ناگزیر فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بیجنگ ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی اس کے تعلقات ایک نازک توازن برقرار رکھتے ہیں۔ یہی وہ حیثیت ہے جس کی بنا پر چین نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کے سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کے مطابق، “ایران ٹرمپ اور نیٹن یاہو کے جوڑے پر اعتماد نہیں کرتا، اس لیے کسی بھی حتمی امن معاہدے کے لیے چین کی ضمانت کنندہ کے طور پر کردار ناگزیر رہے گا۔”
توانائی کے تحفظ سے عالمی قیادت تک: چین کے مفادات
چین کا ایران بحران میں گہرا دخل اس کی اقتصادی مجبوریوں سے جڑا ہے۔ بیجنگ تہران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ 2025 تک چین ایرانی تیل کی برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرنے والا تھا۔ ایرانی تیل چین کی بحری تیل درآمدات کا تقریباً 13 فیصد بنتا ہے۔ اس لیے ایران میں کسی بھی عدم استحکام کا براہ راست اثر چین کی توانائی کی رسائی پر پڑتا ہے۔
تاہم، چین کی کوششیں محض اقتصادی مفادات تک محدود نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ اس موقع کو اپنی عالمی سفارتی قیادت ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اسٹم سن سینٹر کی سن یون کے مطابق، “یہ وہ موقع ہے جسے چین اپنی قیادت اور سفارتی پہل کو ظاہر کرنے کے لیے ضرور استعمال کرے گا۔”
مستقبل کے چیلنجز اور عالمی ردعمل
چین اپنے اس کردار میں احتیاط برت رہا ہے۔ امریکہ پر بہت سخت تنقید اس کے لیے مئی میں ہونے والے انتہائی اہم چین-امریکہ سربراہی اجلاس میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ دوسری طرف، اس کی یہ سفارتی پوزیشن عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہی ہے، جیسا کہ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے چین سے عالمی تنازعات کے حل میں زیادہ شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چین ایک مستحکم اور قابل پیشین گوئی ایرانی حکومت کو ترجیح دیتا ہے، لیکن وہ سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ڈھل جانے کے لیے کافی عملیت پسند بھی ہے۔ بیجنگ کا بنیادی مقصد ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر اپنا تشخص قائم کرتے ہوئے، اپنے اقتصادی مفادات کا تحفظ اور امریکی اثر و رسوخ کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرنا ہے۔
