اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عوام کو مہنگائی کے طوفان میں ایک اور ریلیف فراہم کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں 13 جون 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
ڈویژن آف پٹرولیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مط، اس کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 373.78 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، گزشتہ ہفتے 377.78 روپے تھی۔ اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 380.78 روپے سے کم ہو 378.78 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ
تاہم، حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 1.49 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ نظرثانی کے بعد مٹی کا تیل 280.70 روپے سے بڑھ کر 282.19 روپے فی لیٹر پر فروخت ہوگا۔
عالمی بحران اور ہفتہ وار جائزہ
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کی تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی تھی۔ وزارت پٹرولیم اس وقت 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکی اسرائیلی کشیدگی کے آغاز کے بعد سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائہ لے رہی ہے۔
اس تنازعے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی ایندھن کا بحران پیدا کر دیا تھا، یہ ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے امن کے اوقات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصہ تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔
معیشت پر اثرات
پٹرول بنیادی طور پر چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیہ گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے ایندھن کی بلند قیمتیں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں جو روزانہ کے سفر کے لیے پٹرول پر انحصار کرتے ہیں۔
دوسری جانب، ٹرانسپورٹ سیکٹر کا بڑا حصہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر انحصار کرتا ہے۔ اس کی قیمت کو افراط زر کا سبب سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر بھاری مال بردار گاڑیوں، ٹرکوں، بسوں، ٹرینوں اور زرعی مشینری جیسے ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشر میں استعمال ہوتا ہے۔
