ٹرین کا سفر نہ صرف آہستہ سفر کے شوقین افراد کا پسندیدہ ذریعہ نقل و حمل ہے بلکہ یہ ذہنی صحت کے لیے بھی غیر متوقع فوائد کا حامل ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرین کی کھڑکی سے گزرتے مناظر کو دیکھنا ایک قسم کی مراقبہ کی مشق ہے جو تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
سفر کو مراقبہ میں تبدیل کرنے کا آسان طریقہ
ماہر نفسیات سینڈرائن ڈیسمبر کا کہنا ہے کہ “ٹرین کی کھڑکی سے مناظر کو دیکھنا خود کو موجودہ لمحے میں واپس لانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جب آپ بغیر کسی اسکرین کے صرف مناظر کو دیکھتے ہیں اور اپنی یادداشت میں محفوظ کرتے ہیں۔” ان کے مطابق یہ عمل ذہنی سکون اور اضطراب میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے مطالعے سے تصدیق
موبل ہوم کے ادارے کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹرین کے سفر کے دوران مناظر کو دیکھنے والے مسافروں میں ذہنی سکون اور بہتری محسوس کی گئی۔ اس تحقیق میں شریک مسافروں کا کہنا تھا کہ مناظر کو دیکھنا ان کے موڈ کو بہتر بنانے اور تناؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
فطری مناظر دیکھنے کے نفسیاتی فوائد
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف کھڑکی سے باہر دیکھنا بھی ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ ماہر نفسیات کرسٹوف اینڈری کے مطافق “تناؤ کو کم کرنے کے لیے افق کو دیکھیں”۔ ان کا کہنا ہے کہ فطری مناظر کو دیکھنا ہمارے دماغ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرتا ہے۔
- ٹرین کا سفر ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے
- مناظر کو دیکھنا مراقبہ کے برابر فوائد رکھتا ہے
- فطری ماحول دماغی تناؤ کو کم کرتا ہے
- مسافروں کی اکثریت نے اس کے مثبت اثرات محسوس کیے
مک گل یونیورسٹی کی محقق مار ایسٹاریلاس کے مطابق 108 مطالعات کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب لوگ فطری ماحول میں وقت گزارتے ہیں یا فطرت کی تصاویر دیکھتے ہیں تو ان کے دماغ میں تناؤ کی سطح میں واضح کمی واقع ہوتی ہے۔ ٹرین کا سفر ان فوائد کو حاصل کرنے کا ایک آسان اور مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
