19 اپریل 2026 کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں ایک اور خطرناک موڑ آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہرمز کے آبنائے میں بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔
ہرمز کے آبنائے میں بحری بحران
امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں اور ساحلی پٹی کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے جسے ایران نے فوری طور پر ‘غیر قانونی’ قرار دے دیا ہے۔ امریکی بحریہ نے ممکنہ بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے سمندر میں ڈرون تعینات کر دیے ہیں۔ بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کے بعد ہرمز کے آبنائے میں تمام بحری آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔
ایران کا امریکی مذاکرات سے انکار
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق، ایران نے امریکہ کے ساتھ دوسرے دور مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ نیم سرکاری خبررساں ادارہ تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہنے تک ایران مذاکراتی وفد بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر کا امن کا پیغام
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران تنازعہ کو وسیع کرنے کا خواہش مند نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلسل جنگ کسی ملک کے فائدے میں نہیں ہے اور مسائل کو تناؤ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ صدر نے خطے کے ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اسرائیلی فوج کا لبنان میں نیا نقشہ
اسرائیلی فوج نے پہلی بار لبنان کے جنوبی علاقے میں اپنی نئی تعیناتی کی لائن کا نقشہ جاری کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد درجنوں زیادہ تر خالی لبنانی گاؤں اسرائیلی کنٹرول میں آ گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی وزیر اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ سرحد پر حزب اللہ کے استعمال میں آنے والے گھروں کو مسمار کر دیا جائے گا۔
بین الاقوامی ردعمل
اسپین نے یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ اپنے ایسوسی ایشن معاہدے کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے الزام لگایا کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس لیے یورپی یونین کا پارٹنر نہیں ہو سکتا۔
کینیڈا کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ اسی دوران اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمیشن نے اگلے دو دنوں کے لیے بند رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ہرمز کے آبنائے سے بحری جہازوں کی گذرگاہ
ٹی یو آئی کروزز نے اعلان کیا ہے کہ اس کے دو بحری جہاز ‘مائن شف 4’ اور ‘مائن شف 5’ ہرمز کے آبنائے سے گزر چکے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے حفاظتی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام سے منظوری حاصل کی تھی۔ یہ جہاز اب بحیرہ روم کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
خطے میں کشیدگی کے اس نئے دور میں عالمی برادری کی توجہ ہرمز کے آبنائے کی صورت حال اور ممکنہ سفارتی مذاکرات پر مرکوز ہے۔
