قرآن و سنت اکیڈمی میں فائرنگ کے دوران پولیس کی فوری کارروائی، عالم دین محفوظ رہے
جہلم: مذہبی عالم انجینئر محمد علی مرزا کی قرآن و سنت اکیڈمی کے باہر فائرنگ کرنے والا ایک مسلح حملہ آور اتوار کے روز پولیس کے جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جبکہ عالم دین محفوظ رہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انجینئر مرزا اکیڈمی میں اپنا روزمرہ کا درس دے رہے تھے کہ ایک نامعلوم حملہ آور نے اچانک بے تحاشا فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس اہلکار زخمی، حملہ آور ہلاک
حملے کے دوران مقام پر تعینات کانسٹیبل احسن کے ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ کوئی دیگر جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں “نیوٹرلائز” ہو گیا، جس سے بڑے جانی نقصان کو روکا جا سکا۔
رپورٹ طلب، تفتیش کا حکم
راولپنڈی کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) سید خالد محمود ہمدانی نے واقعے کی فوری طور پر نوٹس لے کر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے مکمل تفتیش کا حکم دیتے ہوئے حکام کو حملے کے پیچھے کسی بھی معاونین کی شناخت کی ہدایت کی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقام سے ثبوت جمع کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پر رکھی گئی ہے۔ قانون و انتظام کو یقینی بنانے کے لیے حساس مقامات پر اضافی پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
ماضی میں بھی حملوں کا سامنا
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عالم دین کو ایسے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سال فروری میں بھی وہ ایک اور حملے سے بچ گئے تھے جب اسی اکیڈمی میں فوٹو سیشن کے دوران ایک شخص نے ان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
انجینئر محمد علی مرزا کو گزشتہ سال اگست میں تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں دسمبر میں ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔
