دنیا کے امیر ترین شخص اور ایکس کے مالک ایلون مسک کو فرانسیسی عدالت نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں پیر 20 اپریل کو سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ تاہم، ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ مسک اس “آزادانہ سماعت” میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
تحقیقات کا دائرہ کار
پیرس کے پراسیکیوٹرز نے واضح کیا ہے کہ جنوری 2025 میں شروع ہونے والی یہ تحقیقات اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا پلیٹ فارم ایکس نے فرانسیسی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ فرانس کی سرزمین پر کام کرنے والے تمام پلیٹ فارمز کو مقامی قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔
ڈیپ فیکس اور اسٹاک ویلیو کا معاملہ
تحقیقات کے مرکز میں دو اہم معاملات ہیں:
- پلیٹ فارم پر ممکنہ طور پر کودکانہ فحش تصاویر کی تشہیر میں معاونت۔
- پلیٹ فارم کے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈل “گراک” کے ذریعے جنسی نوعیت کے ڈیپ فیکس بنانے کا استعمال۔
عدالت یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا ڈیپ فیکس سے پیدا ہونے والے تنازعہ کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی تاکہ ایکس اور ایکس اے آئی کمپنیوں کی مالیاتی قدر کو مصنوعی طور پر بڑھایا جا سکے۔ یہ عمل اسٹاک ایکسچینج میں انٹری سے پہلے ممکنہ فائدے کے لیے دیکھا جا رہا ہے۔
مسک کا ردعمل اور عدالتی کارروائی
فروری کے آغاز میں، فرانسیسی عدالت نے ایکس کے دفاتر میں چھاپے مارے اور ایلون مسک کو طلب کیا تھا۔ اس موقع پر مسک نے ایک پوسٹ میں فرانسیسی ججوں کو “ذہنی معذور” قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایکس کی انتظامیہ نے چھاپوں کو “سیاسی محرکات پر مبنی” اور “غیر منصفانہ” قرار دیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر تحقیقات
پیرس کے پراسیکیوٹرز کے مطابق، ایکس کے خلاف تحقیقات صرف فرانس تک محدود نہیں ہیں۔ دیگر ممالک کی عدالتی اتھارٹیز بھی اسی طرح کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ فرانسیسی عدالت نے اپنے حاصل کردہ ثبوت امریکہ کے جسٹس ڈپارٹمنٹ اور نیو یارک و کیلیفورنیا کے پراسیکیوٹرز کے ساتھ ساتھ یورپی اداروں کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ نے فرانسیسی تحقیقات کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم، جو آزادی اظہار کی ضمانت دیتی ہے، کے خلاف قرار دیا ہے۔ تاہم، پیرس کے پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں اس خط کی کوئی معلومات نہیں ہے۔
فی الحال، پلیٹ فارم ایکس کے خلاف کوئی باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ یہ سماعتیں کمپنی کے حکام کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور ممکنہ اصلاحات کے بارے میں بتانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
