پیرس: کورونا وائرس اب بھی گردش میں ہے لیکن یہ سب کے لیے یکساں خطرہ نہیں رہا۔ کچھ افراد میں انفیکشن معمولی رہتا ہے جبکہ دوسروں کے لیے یہ ہسپتال میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔ فرانس کی حکومت نے انہیں زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم بہار کی ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
کون لوگ ویکسین لگواسکتے ہھیں؟
صحت کے حکام کے مطابق، جون کے آخر تک سب سے زیادہ خطرے کا شکار افراد کو نئی بووسٹر ڈوز لگانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس مہم میں ترجیحی بنیاد پر 80 سال سے زیادہ عمر کے افراد، اولڈ ہومز کے رہائشیوں اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے مریضوں کو شامل کیا گیا ہے۔ دیگر اعلیٰ خطرے والے مریضوں کو بھی ڈاکٹر کے مشورے پر ویکسین لگوانے کی اجازت ہوگی۔
حکام نے خطرے سے دوچار افراد کے قریبی رشتہ داروں کو بھی ویکسین لگوانے کی اپیل کی ہے تاکہ نازک لوگوں میں وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
حفاظت برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدام
فرانس کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ (ڈی جی ایس) کے مطابق، وقت گزرنے کے ساتھ ویکسین کی حفاظتی قوت کم ہوتی جاتی ہے۔ آخری ویکسینیشن یا انفیکشن کے چھ ماہ بعد بووسٹر ڈوز لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہ اضافی خوراک گرمیوں کے دوران تحفظ برقرار رکھنے میں مدد دے گی، جب وائرس کی گردش جاری رہتی ہے اور شدید گرمی خطرے والے افراد کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔
ڈی جی ایس نے واضح کیا کہ ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے، جیسے کہ کمروں میں ہوا کی آمدورفت، ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی اور علامات ظاہر ہونے یا نازک افراد کے ساتھ رابطے میں ماسک کا استعمال۔
خزاں کی مہم کا تکملہ
یہ بہار کی مہم ہر سال خزاں میں ہونے والی ویکسینیشن مہم کا تکملہ ہے، جو عام طور پر فلو کے ویکسینیشن کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے اور زیادہ وسیع آبادی بشمول 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے کھلی ہوتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں، وائرس کی گردش جاری رہی ہے لیکن اس سے صحت کے نظام پر زیادہ دباؤ نہیں پڑا۔ تاہم، یہ مستحکم صورتحال سب سے زیادہ کمزور گروہوں کے لیے خطرے کو ختم نہیں کرتی۔
ویکسینیشن مکمل طور پر مفت ہے اور اولڈ ہومز کے رہائشیوں کو ان کی رہائش گاہ پر ہی ویکسین لگائی جائے گی جبکہ دیگر اہل افراد شہر کے صحت کے مراکز میں جا کر بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
