سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس پر مبنی بڑا آپریشن
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سنٹرل پولیس آفس کے مطابق پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کارروائی میں متعدد عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے، تاہم افسوسناک پہلو یہ رہا کہ اس دوران ڈیوٹی کا فرض نبھاتے ہوئے ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔
یہ آپریشن تھانہ میریان کی حدود میں علی الصبح شروع کیا گیا، جس میں جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی اور نگرانی کے آلات کا استعمال کیا گیا تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
10 کلو گرام وزنی بارودی مواد برآمد
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 10 کلو گرام وزنی امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) برآمد کر کے اسے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا۔ حکام کے مطابق اگر یہ بارودی مواد دھماکے کے لیے استعمال ہوتا تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ ایک پولیس اہلکار آپریشن کے دوران زخمی بھی ہوا، جسے فوری طور پر علاج کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔p>
صوبے بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری
بنوں میں یہ کامیاب آپریشن اس سے چند روز قبل خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کیے گئے آپریشنز کے تسلسل میں ہے، جن میں 23 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دتہ خیل، اسپن وام اور بنوں میں کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں فتنہ الخوارج کے 23 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن میں ایک بڑا سرغنہ جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل تھا۔
خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید نے واضح کیا ہے کہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلاتعطل جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہے اور دشمنوں کے ہر وار کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
سرحد پار سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی
سن 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی صوبوں میں، سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت پاکستان بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
تاہم، افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے مسلسل انکار کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پاکستان نے رواں سال فروری میں آپریشن غضب الحق کا آغاز کیا، جو اکتوبر 2025 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں شروع کیا گیا۔ متعدد مذاکرات کے باوجود، افغان طالبان کی اپنی سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے کوئی ٹھوس معاہدہ طے نہیں ہو سکا ہے۔
