ملتان: صوبائی حکومت نے نشتر ہسپتال ملتان میں ایک سنگین طبی غفلت کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 9 ڈاکٹروں اور ایک نرس کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب انکشاف ہوا کہ ایک مشتبہ ایچ آئی وی پازیٹیو مریض کا بغیر اسکریننگ ٹیسٹ کے عام مریضوں کے ساتھ آپریشن کر دیا گیا۔
جاری کردہ معطلی کے احکامات کے مطابق، محکمہ صحت پنجاب نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر ایم ایس جنرل سرجری ڈاکٹر عرسہ عارف، کیمیکل پیتھالوجسٹ ڈاکٹر ثانیہ سعید، آرتھوپیڈک ڈاکٹر محمد نعیم اختر، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر فریحہ احمد، میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شہباز انور، ڈاکٹر محمد علی جان اور چارج نرس ردا زہرا کو فوری طور پر ڈیوٹی سے روک دیا ہے۔
آپریشن تھیٹر سیل، عملے کے ایچ آئی وی ٹیسٹ
یہ واقعہ تین روز قبل پیش آیا جب سرجری ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر مریض کا ایچ آئی وی ٹیسٹ رپورٹ حاصل کیے بغیر آپریشن کر دیا۔ بعد ازاں مریض کی رپورٹ مثبت آنے پر ہسپتال انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔ انتظامیہ نے فوری طور پر اس آپریشن تھیٹر کو سیل کر دیا جہاں یہ سرجری ہوئی تھی۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، تمام معطل ڈاکٹروں اور نرس کو بغیر پیشگی اجازت اسٹیشن چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ مزید برآں، آپریشن تھیٹر میں موجود 10 سے زائد ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی کروائے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ منتقلی کا جلد از جلد پتہ لگایا جا سک۔
وزیر صحت کا سخت ردعمل
صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اس واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی غفلت ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والوں کو محکمے میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
