پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف ہراسگی، بلیک میلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزام میں پولیس میں درخواست دے دی ہے۔ جمعے کے روز لاہور کے چنگ تھانے میں جمع کرائی گئی اس درخواست میں اداکارہ نے سنگین نوعیت کے دعوے کیے ہیں۔
مومنہ اقبال کا مؤقف ہے کہ رکن اسمبلی کی جانب سے انہیں اور ان کے منگیتر کو مسلسل دھمکی آمیز کالز کی جا رہی تھیں۔ اداکارہ کے مطابق، یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے ثاقب چدھڑ کی شادی کی پیشکش کو یہ جان کر ٹھکرا دیا کہ وہ پہلے سے دو خواتین کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔
شادی سے انکار کے بعد بلیک میلنگ اور گالم گلوچ کا الزام
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ شادی کی پیشکش مسترد ہونے پر قانون ساز نے نہ صرف انتہائی نازیبا اور بازاری زبان استعمال کی بلکہ بلیک میلنگ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ مومنہ اقبال نے اپنی درخواست میں ملزم کی جانب سے بھیجے گئے واٹس ایپ میسجز اور ویڈیو کالز کا حوالہ بھی دیا ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ یہ دھمکیاں صرف ان تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ ملزم نے ان کی بہن کے فون پر بھی اسی قسم کے پیغامات بھیجے۔ مومنہ اقبال اپنے وکلا کے ہمراہ چنگ تھانے پہنچیں اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) فہیم امجد کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا فوری اور سخت ردعمل
اس حساس معاملے پر پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان یہ ایک “ذاتی معاملہ” ہے اور اسے “میرٹ پر اور قانون کے مطابق سختی سے نمٹایا جائے گا”۔ انہوں نے جمعے کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ، دباؤ یا دھمکی کے ذریعے “ذاتی مواد” کی بازیابی کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف “مضبوط اور غیر سمجھوتہ کارروائی” عمل میں لائی جائے گی۔
ایف آئی اے اور سائبر کرائم کو شکایات پر عدم کارروائی کا دعویٰ
اس سے قبل اداکارہ نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ٹیگ کرتے ہوئے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انکشاف کیا تھا کہ وہ “کافی عرصے سے آن لائن ہراسگی، سائبر دھونس اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کر رہی ہیں”۔ انہوں نے بتایا کہ اس شخص کے مبینہ اقدامات کی وجہ سے وہ اور ان کا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور صدمے سے گزر رہے ہیں، تاہم انہوں نے عوامی طور پر ایم پی اے کا نہیں لیا تھا۔
مومنہ اقبال نے اپنی پوسٹ میں لکھا، “مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے ایک رکن مجھے کافی عرصے سے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میں نے بار بار نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو معاملے کی اطلاع دی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔”
وزیراعلیٰ کے دفتر سے منسلک افراد پر شکایات دبانے کا الزام
اداکارہ نے مزید سنگین دعویٰ کرتے ہوئے کہا، “انصاف فراہم کرنے کے بجائے، مبینہ طور پر میری شکایات کو دبانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ وزیراعلیٰ کے دفتر سے وابستہ افراد نے بھی منصفانہ تحقیقات کی اجازت دینے کے بجائے مجھے حوصلہ شکنی کرنے اور معاملے کو خاموش کرانے کی کوشش کی۔” ان الزامات کے بعد اب یہ معاملہ قانونی راستے پر چل پڑا ہے اور پولیس کو درخواست موصول ہو چکی ہے۔
