کراچی: پاک بحریہ کے لیے ایک سنگ میل عبور کرتے ہوئے، جدید ترین ہنگور کلاس کی پہلی آبدوز پی این ایس/ایم ہنگور کراچی پورٹ پر باقاعدہ بحری استقبال کے ساتھ پہنچ گئی۔ اس موقع پر پاک بحریہ کے جوانوں اور سینئر افسران نے آبدوز کا روایتی انداز میں خیرمقدم کیا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) پاک بحریہ کے مطابق، استقبالیہ تقریب پاکستان نیوی ڈاکیارڈ میں منعقد ہوئی جس میں کمانڈر پاکستان فلیٹ وائس ایڈمرل عبدالمنیب بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے اعزازی سلامی پیش کی، جبکہ پی این زیڈ 9 ای سی ہیلی کاپٹروں نے آبدوز کے اعزاز میں شاندار فلائی پاسٹ کیا۔
جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار
پی این ایس ہنگور جدید ترین جنگی نظاموں، حساس سینسرز، اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (اے آئی پی) ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی بے مثال اسٹیلتھ صلاحیت ہے جو دشمن کی نظروں سے چھپ کر طویل فاصلے تک آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بحریہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پی این ایس ہنگور کی آمد پاک بحریہ کی جدید کاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک دفاعی تعاون کی عکاس ہے۔
اپریل میں چین میں کمیشننگ کی تقریب
واضح رہے کہ پاک بحریہ نے اس آبدوز کو رواں سال اپریل میں چین کے شہر سانیا میں منعقدہ ایک تقریب میں کمیشن کیا تھا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی صدر آصف علی زرداری تھے، جبکہ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔
ص زرداری نے اس موقع پر کمیشننگ کو پاکستان کی بحری دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے ملک کی خودمختاری اور اقتصادی لائف لائنز کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز پر زور
آئی ایس پی آر کے مطابق، ایڈمرل نوید اشرف نے ابھرتے ہوئے بحری سیکیورٹی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے جدید بحری صلاحیتوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبدوزیں سمندری خطوط مواصلات کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس کامیابی پر قوم اور پاک بحریہ کو مبارکباد پیش کی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت سے پاک بحریہ کی آپریشنل رسائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
