جنرل سانتوس، فلپائن: جنوبی فلپائن میں پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد امدادی کارکن بارش اور آفٹر شاکس سے نبرد آزما ہیں۔ حکام کے مطابق جمعہ تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 55 ہو گئی ہے جبکہ 31 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی دائرہ اختیار سے موصولہ رپورٹوں کی روشنی میں جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار میں گزشتہ روز مزید 8 اموات کا اضافہ ہوا ہے۔ منڈاناؤ کے جزیرے پر آنے والے اس زلزلے نے متعدد عمارتیں منہدم کر دیں اور لینڈ سلائیڈنگ کو متحرک کیا، جس کے بعد پورے خطے میں سونامی کے انتباہات بھی جاری کیے گئے تھے۔
سارانگانی میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد کی فراہمی
شدید متاثرہ صوبے سارانگانی کے صوبائی ڈیزاسٹر چیف رینے پنزالان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کئی بند سڑکوں کو کلیئر کر دیا گیا ہے، تاہم بجلی سے محروم اور منقطع آبادیوں تک خوراک اور پانی پہنچانے کے لیے اب بھی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امدادی کارروائیوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “آفٹر شاکس اب بھی ہمارے کام کی رفتار کو سست کر رہے ہیں، اس کے علاوہ گزشتہ رات بارش بھی ہوئی، اس لیے ہمیں کچھ دیر کے لیے آپریشن روکنا پڑا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ بھاری مشینری کے ذریعے بڑے پتھروں کو ہٹایا جا رہا ہے۔
زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امید دم توڑ گئی
پنزالان نے لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھنے کے باوجود کسی کو زندہ ڈھونڈ نکالنے کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “زلزلے کو کئی دن گزر چکے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے کسی کو زندہ بچا لیا گیا تو یہ ایک معجزہ ہوگا۔ اب ہمارا مقصد صرف ان کی لاشیں نکالنا ہے۔”
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس نے بدھ کے روز متاثرہ علاقے کے سب سے بڑے شہر جنرل سانتوس کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایک تباہ شدہ اسکول اور امداد کی تقسیم کے مرکز کا معائنہ کیا۔ صدر نے اعلان کیا کہ حکومت سٹی ہال کی تعمیر نو کے لیے 100 ملین پیسو (1.6 ملین ڈالر) مختص کرے گی۔
