مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے پیر کے روز دو فلسطینی نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
مغربی کنارہ: بیت امر کے قریب فائرنگ کا واقعہ
فلسطینی حکام کے مطابق، بیت اُمر کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں نے دو نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی عمریں 15 اور 19 سال تھیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان نوجوانوں نے قریبی یہودی بستی کرمئی تزور کے قریب آتشی بم پھینکے اور ٹائر جلائے تھے، جس کے بعد فوجیوں نے کارروائی کی۔ فوج کے مطابق، تین افراد میں سے دو مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا، جس کی عمر 15 سال بتائی جاتی ہے اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے اور بیشتر ممالک اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں اور فوج کے حملوں میں کم از کم 57 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں
غزہ: جنگ بندی کے باوجود ہلاکتوں کا سلسلہ
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 9 فلسطینی شہید اور 41 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 1,021 افراد شہید اور 3,249 زخمی ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین حملوں میں غزہ شہر کی صبرا محلے میں ایک عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت چار افراد شہید ہو گئے۔
ایک اور واقعے میں، اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے بیت لاہیہ قصبے میں ایک خاتون کو گولی مار دی۔ جبکہ جنوب میں واقع خان یونس میں ایک فضائی حملے میں ایک شخص شہید اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ ہفتے کے روز وسطی غزہ کے بریج پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فضائی حملے میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت تین افراد شہید ہو گئے۔
اقوام متحدہ میں تلخ کلامی اور عالمی ردعمل
اقوام متحدہ میں بچوں اور مسلح تصادم سے متعلق ایک سماعت کے دوران اسرائیلی مندوب اور اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ عہدیدار کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن نے خصوصی نمائندہ پرمیلا پیٹن کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر تعصب کا الزام لگایا۔ یہ رپورٹ اسرائیل کو پہلی بار جنسی تشدد کے الزامات کی بنا پر بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کرتی ہے۔
دوسری جانب، اسلام آباد نے غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ تقریباً 20 لاکھ فلسطینی قتل، محرومی، نقل مکانی اور غیر یقینی کی کیفیت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تمام گزرگاہیں کھولنے، ناکہ بندی کے فوری خاتمے اور امداد کی بلارکاوٹ ترسیل کا مطالبہ کیا۔p>
علاقائی اور سفارتی پیش رفت
قاہرہ میں پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے چوتھے مشاورتی اجلاس میں مسلم ممالک نے مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کلید قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے دو اہم کارندوں کو ہلاک کیا ہے، جن پر حماس کو کروڑوں ڈالر کی منتقلی میں سہولت کاری کا الزام تھا۔ اس دوران، لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ایک فوجی اہلکار کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اسرائیل کو ‘سیلاب’ میں پھنسا سکتا ہے۔
