اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حصہ نہیں ہے جس پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے دستخط ہوئے تھے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفود کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے دوہرے معیارات نہیں اپنائے جانے چاہئیں، ایران کو بھی دیگر ممالک کی طرح ان کے حصول کا یکساں حق حاصل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر موجود نہیں کیونکہ یہ معاملہ کبھی بھی مذاکرات کی میز پر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “سبوتاژ کرنے والے عناصر” معاہدے کو غلط رنگ دینے اور امن عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے مفاہمتی یادداشت کے مندرجات کے بارے میں کسی قسم کی الجھن یا غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
دفاعی صلاحیتوں پر دوہرے معیارات مسترد
وزیراعظم نے اس بات کو غیر منصفانہ قرار دیا کہ کچھ ممالک خود تو بیلسٹک میزائل رکھتے ہیں لیکن ایران کے اسی حق پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے بحیثیت ثالث اپنی حیثیت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو ٹوک الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ مفاہمتی یادداشت میں کسی بھی شکل میں بیلسٹک میزائلوں کا ذکر نہیں ہے اور مبصرین کو اس معاہدے کی غلط تشریح کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اپنا کردار ادا کرتا رہے گا جب تک ایک پائیدار اور باعزت امن قائم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے ایرانی قیادت اور عوام کی ہمت اور استقامت کی تعریف کی اور ملک کے لیے مشکل دور میں ان کے ثابت قدم رہنے پر اظہار تشکر کیا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کی خدمات کا اعتراف
وزیراعظم نے جنگ بندی کو یقینی بنانے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی سہولت فراہم کرنے میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شاندار خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امن عمل میں یہ پیش رفت قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سمیت دوست ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایک وسیع تر تنازعہ بڑے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور خطے کے لیے تباہ کن نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اس لیے پاکستان ایسے تصادم کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ تاہم انہوں نے مستقبل کے حوالے سے پرامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریقین اب ایک روشن راستے کی جانب گامزن ہیں اور پاکستان امن، استحکام اور بات چیت کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی صدر کا مؤقف: دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایران کے میزائل اس معاہدے کا حصہ نہیں تھے اور “کبھی ہوں گے بھی نہیں”۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کبھی بھی کسی ملک کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات نہیں کرے گا اور ان کا پختہ یقین ہے کہ علاقائی امن اور استحکام صرف دیانت دارانہ بات چیت اور علاقائی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بنیاد گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کا مستقبل اور تقدیر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف ایک ہمسایہ ملک ہی نہیں بلکہ ایک برادر اسلامی ملک اور قریبی دوست بھی ہے اور انہیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مختلف شعبوں میں مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے حکومت اور عوام پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اسلام آباد کی خدمات کا اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر ایران کے اعتماد کا مظہر ہیں۔
ایرانی صدر نے بتایا کہ انہوں نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ صدر پزشکیان کا یہ دورہ پاکستان کا ان کی صدارت میں دوسرا دورہ تھا اور وہ اپنے مصروف شیڈول کے بعد منگل کی رات تہران روانہ ہو گئے۔
