فرانس نے اپنی سرزمین پر ایبولا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ وائرس ایک امدادی ڈاکٹر میں پایا گیا ہے جو جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) سے واپس آیا ہے، جہاں اس وقت بیماری کی ایک بڑی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ وزارت صحت نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کیس کی شناخت فرانس کے مرکزی علاقے میٹروپول میں ہوئی ہے۔
مریض کی حالت مستحکم، فوری اقدامات اٹھا لیے گئے
وزارت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ “جمہوری جمہوریہ کانگو میں وائرس کی گردش والے علاقوں سے واپس آنے والے اس مریض کو فوری طور پر ایک خصوصی طبی مرکز میں داخل کر لیا گیا اور اس کی حالت مستحکم ہے۔” وزارت نے عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ فرانس کے پاس اس طرح کے مریضوں کے علاج کی “مکمل صلاحیت” موجود ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ “تمام احتیاطی تدابیر، خاص طور پر مریض کو آئسولیٹ کرنا، اس کے قومی سرزمین پر پہنچتے ہی اختیار کر لی گئی تھیں اور انفیکشن کے کسی بھی خطرے سے بچنے کے لی اسے محفوظ حالات میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔”
رابطوں کی فہرست تیار کرنے کے لیے وبائی تحقیقات کا آغاز
وزارت صحت نے بتایا کہ “ان افراد کا تعین کرنے کے لیے ایک گہری وبائی تحقیقات کی جا رہی ہے جو مریض کے رابطے میں آئے ہوں گے۔ علاقائی صحت ایجنسی بغیر کسی تاخیر کے ان افراد سے رابطہ کرے گی، وہ 21 دن تک گھر پر آئسولیشن میں رہیں گے اور اس دوران ان کی محتاط نگرانی کی جائے گی۔” وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، صورتحال پر “انتہائی قریبی” نظر رکھی جا رہی ہے۔
وبا کا پس منظر اور ویکسین کی عدم دستیابی
جمہوری جمہوریہ کانگو اپنی تاریخ کی 17ویں ہیمرجک فیور کی وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک اس ملک میں یہ بیماری 1,048 افراد کو متاثر کر چکی ہے اور 267 اموات کا سبب بنی ہے۔ اموات کی شرح 25.5 فیصد ہے۔ تاہم، بین الاقوامی امدادی اداروں اور این جی اوز کا متفقہ طور پر ماننا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اب بھی حقیقت سے کم ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے مطابق، تقریباً 78 طبی کارکن اس وائرس سے متاثر ہوئے اور 18 ہلاک ہو چکے ہیں۔
فرانس میں اس سے قبل میٹروپول میں ایبولا کے صرف دو تصدیق شدہ کیسز کا علاج کیا گیا تھا، جو 2014-2016 کی ایبولا (زائیر) وبا کے دوران تشخیص کے بعد محفوظ طبی انخلاء کے ذریعے لائے گئے تھے۔ موجودہ وبا بنڈی بوگیو وائرس کی وجہ سے پھیلی ہے، جس کے لیے فی الحال نہ کوئی ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی علاج۔ تیار کردہ ویکسین صرف زائیر وائرس کے خلاف موثر ہیں، جو اب تک کی سب سے بڑی ایبولا وباؤں کا ذمہ دار رہا ہے۔ ایبولا گزشتہ 50 سالوں میں افریقہ میں 15,000 سے زائد افراد کی جان لے چکا ہے
