آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکیپیڈیا نے اپنے پلیٹ فارم پر موجود مضامین کی تدوین کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی شدید مخالفت کر دی ہے۔ اس کے شریک بانی جمی ویلز نے واضح کیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی ’اتنا بھروسہ‘ نہیں کرتے۔
جمی ویلز نے پیر 22 جون کو لندن میں ایک تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں قلیل مدتی ’ہیلوسینیشنز‘ یعنی پراعتماد انداز میں غلط نتائج پیش کرنے کا مسئلہ ’اب بھی انتہائی سنگین‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ جاننا مشکل ہے کہ اے آئی 25 سال بعد کیسی ہوگی۔‘
تاہم، وکیپیڈیا نے بعض مخصوص موضوعات کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے استعمال کے امکان کو یکسر خارج نہیں ک۔ ویلز نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک 97 سالہ حیاتیات کے پروفیسر کی وفات جو میڈیا کی نظروں سے اوجھل تھے‘ جیسے واقعات ایڈیٹرز کی نظر سے نہیں گزرتے، ایسے میں اے آئی مدد کر سکتی ہے۔
اے آئی روبوٹس کی وجہ سے ٹریفک میں اضافہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وکیپیڈیا اپنے کام میں اے آئی کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں مصنوعی ذہانت کے ماڈل صارفین کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے اسی انسائیکلوپیڈیا کے مواد سے استفادہ کر رہے ہیں۔
جمی ویلز کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے مقابلے کی وجہ سے ’انسانی ٹریفک میں 8 فیصد کمی‘ کے باوجود، ’ہم نے ٹریفک میں اضافہ دیکھا‘ جس کی وجہ اے آئی روبوٹس کے وزٹس میں زبردست تیزی ہے۔ انہوں نے اس کمی کو ’قابل ذکر، لیکن تباہ کن نہیں‘ قرار دیا۔
ٹیک کمپنیوں سے معاہدے اور منصفانہ معاوضے کی شرط
وکیپیڈیا نے متعدد بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ معاہدے بھی کیے ہیں۔ اگرچہ اس کا مواد مفت ہے، لیکن سائٹ نے اے آئی کمپنیوں سے کہا ہے کہ جو اس پر ’لاکھوں سوالات کی بوچھاڑ‘ کرتی ہیں، وہ اس نئے بہاؤ سے نمٹنے کے لیے اپنی مشینوں کے استعمال کا ’منصفانہ حصہ‘ معاوضہ دیں۔
جمی ویلز نے اگرچہ معاہدوں کی صحیح رقم ظاہر نہیں کی، لیکن اس شعبے میں پیش رفت پر ’کافی اطمینان‘ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہمیں بہت سے بڑے اداروں کے ساتھ خاطر خواہ کامیابی ملی ہے اور ہم ان کو بلاک کرنا شروع کر رہے ہیں صحیح رویہ نہیں اپنا رہے۔‘
