>برلن (رائٹرز) – مغربی یورپ میں درجنوں اموات سے منسلک گرمی کی لہر ہفتے کے روز مشرق کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہے، جس کے پیش نظر جرمنی کے شہری شدید گرم موسم کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ اس سے قبل درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس (104 ڈگری فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر کے ریکارڈ توڑ چکا ہے۔
برطانیہ، فرانس، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی سبھی نے جون میں ریکارڈ گرمی کا سامنا کیا ہے، اور یہ موسمی نظام جرمنی سے ہوتا ہوا پولینڈ کی طرف بڑھنے کے دوران مزید ریکارڈز کو چیلنج کر سکتا ہے۔
جرمنی کی قومی موسمیاتی سروس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جمعے کو فرانس کی سرحد کے قریب شہر ساربروکن کے پاس 41.3 ڈگری سیلسیس کا نیا جرمن ریکارڈ قائم ہوا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ریڈنگ ابھی ابتدائی ہے۔
عوام سے پانی بچانے کی اپیل
محکمہ موسمیات نے ہفتے کے روز تقریباً پورے جرمنی کے لیے شدید گرمی کی وارننگ جاری کر دی، جبکہ حکام نے عوام سے پانی کی بچت کرنے کی اپیل کی ہے۔
موسمیاتی پیشگوئی کرنے والی ویب سائٹ ڈونرویٹر ڈاٹ ڈی ای کے ماہر موسمیات کارسٹن برانڈٹ نے کہا، “گرمی کی یہ لہر ہفتے کے آخر میں عروج پر ہوگی، جرمنی کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے کافی اوپر چلا جائے گا۔”
اتوار کو فرینکفرٹ میں ہونے والی آئرن مین یورپی چیمپئن شپ لمبی دوری کی ٹرائیتھلون کے منتظمین نے گرمی کے باعث سائیکلنگ اور دوڑ کے راستے مختصر کر دیے۔
سڑکوں کے مڑنے اور ریل کی پٹڑیوں کے پھیلنے سمیت بنیادی ڈھانے کو پہنچنے والے نقصان کے امکان سے نبرد آزما ہوتے ہوئے، کچھ بڑے عوامی خدمات فراہم کرنے والوں نے ٹریفک کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ریل سفر کم کرنے کے لیے مفت منسوخی کی سہولت
جرمنی کے قومی ریل آپریٹر ڈوئچے بان نے گرمی کی لہر کے باعث صارفین کو اگلے ہفتے کے اوائل تک کی طویل مسافت کی بکنگ بغیر کسی چارج کے منسوخ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
فرم کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی ڈھانچہ سورج کی روشنی میں زیادہ رہنے اور گرج چمک کے طوفانوں اور جنگل کی آگ سے سگنلز، پٹڑیوں اور اوور ہیڈ تاروں کو لاحق اضافی خطرات کی وجہ سے خاص دباؤ میں ہے۔
ایک اور آپریٹر، نیشنل ایکسپریس نے بتایا کہ وہ جرمنی کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ہفتے کی دوپہر اپنی رائن-روہر-ایکسپریس لائن پر ٹرینیں معطل کر دے گی۔ یہ ایک احتیاطی اقدام ہے تاکہ اگر خدمات غیر منصوبہ بند طریقے سے رک جائیں تو صورت حال سے بچا جا سکے۔
جرمن ایسوسی ایشن آف ٹاؤنز اینڈ میونسپلٹیز کے چیف ایگزیکٹو آندرے برگ ہیگر نے عوام پر زور دیا کہ وہ گرمی کی لہر کے دوران پانی کا استعمال احتیاط سے کریں۔
شمالی یورپ میں مکانات کا زیادہ تر ڈھانچہ گرمی کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے اندر رکھنے کےے بنایا گیا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم نے کہا کہ گرمی کی موجودہ لہر مہینے کے آخر تک منتقل ہونا شروع ہو جائے گی، جو وسطی یورپ اور بلقان کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔
سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر گرمی کی یہ لہر عملی طور پر ناممکن ہوتی، جس نے اس ہفتے کی راتوں کو بھی معمول سے غیرمعمولی طور پر گرم بنا دیا ہے۔
