اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے منگل کو دہشت گردوں کو ’عسکریت پسند‘ کہے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی اصطلاحات دہشت گرد تشدد کی اصل نوعیت کو مسخ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پاکستان رینجرز کی تنصیب پر حملہ ایک واضح دہشت گردی کا فعل تھا جس میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور حملہ آوروں کی شناخت اسی مطابق کی جانی چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردوں کو کسی اور نام سے نہیں پکارا جانا چاہیے کیونکہ دہشت گردی کی کوئی ذات، رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض بین الاقوامی میڈیا اداروں نے کراچی حملے کی رپورٹنگ میں ’عسکریت پسند‘ کی اصطلاح استعمال کی، جس پر پاکستانی حکام نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
کراچی حملے پر افغان سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ پاکستان نے کراچی میں رینجرز کی تنصیب پر حالیہ دہشت گرد حملے پر افغان چارژ ڈی افیئرز کو وزارت خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج درج کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے افغانستان میں سفیر عبید الرحمن نظامانی نے بھی کابل میں افغان وزارت خارجہ کو اسی نوعیت کا ڈیمارچ پیش کیا۔
ترجمان کے مطابق یہ سفارتی احتجاج ان شواہد کی بنیاد پر کیا گیا جو کراچی آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے ملزم سمیت افغان شہریوں کے حملے میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر ہونے والے اس حملے میں تین سکیورٹی اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے تھے۔
حملہ آوروں کا تعلق بھارت نواز جماعت الاحرار سے تھا، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین حملہ آوروں کو ہلاک جبکہ ایک ملزم کو زندہ گرفتار کر لیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق بھارت کی سرپرستی میں چلنے والی تنظیم جماعت الاحرار سے تھا اور گرفتار ملزم کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم عثمان علی نے تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ حملے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل جلال آباد سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں اس نے مبینہ طور پر جماعت الاحرار کا رکن ہونے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ افغانستان میں اس گروپ کا کمانڈر احرار مولوی ہے۔ سکیورٹی حکام نے مزید بتایا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے حملے سے قبل افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔
دہشت گردوں کی مثبت اصطلاحات میں پیشکش ناقابل قبول ہے
عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد دہشت گرد ہی ہوتے ہیں، ان کی کوئی ذات، رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا۔ انہوں نے میڈیا کے کچھ حلقوں کی جانب سے ان مجرموں کو ’عسکریت پسند‘ جیسے نرم الفاظ سے پکارنے کے رجحان کو انتہائی بدقسمتی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی حملہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور اس کی رپورٹنگ میں درست زبان کا استعمال ناگزیر ہے۔
