اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نظرثانی شدہ نرخ آدھی رات سے نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی دباؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 93 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جو صارفین کے لیے ایک اور مالی جھٹکا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی بھاری اضافہ
اسی طرح، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نظرثانی کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور زراعت کے شعبوں پر براہ راست اثر انداز ہوگا، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ یہ نئی قیمتیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں طے کی گئی ہیں، جو حکومت کے پندرہ روزہ ایندھن کی قیمتوں کے جائزے کے معمول کے عمل کا حصہ ہے۔
نرخوں کا اطلاق اور دورانیہ
نئے پیٹرول اور ڈیزل کے نرخ رات 12 بجے سے ملک بھر میں نافذ ہو چکے ہیں۔ یہ قیمتیں اگلے ایندھن کی قیمتوں کے ایڈجسٹمنٹ تک برقرار رہیں گی، جس کا اعلان آئندہ پندرہ روزہ جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
قیمتوں میں اس تازہ ترین اضافے نے پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے عوام کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اثر نقل و حمل کے کرایوں سے لے کر روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں تک، معیشت کے ہر شعبے پر پڑے گا۔
