اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطے میں حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، سلامتی اور قانونی بحری تجارت کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق، جمعرات کو ہونے والی اس گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ یہ حملے نہ صرف بحری آزادی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس نازک صورتحال میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور وہ خود، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم سعودی قیادت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
بحیرہ احمر میں کشیدگی: حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کا اعلان
یہ ٹیلی فونک رابطہ اس وقت سامنے آیا جب یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں “انسیلیا” اور “لیلا” پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سعودی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی دی تھی۔ سعودی حکام نے “انسیلیا” کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے، تاہم دوسرے جہاز کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ان حملوں نے عالمی سطح پر بحری سلامتی اور تیل کی فراہمی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس نے یمن سے اپنے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے حوثیوں کے بیلسٹک میزائلوں کو ناکام بنایا ہے۔
پاکستان کا دو ٹوک مؤقف
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی پرزور مذمت کی ہے۔ ایک روز قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے اقدامات بحری آزادی کو نقصان پہنچاتے ہیں، قوانین پر مبنی بحری نظام کو چیلنج کرتے ہیں اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارت میں مصروف تجارتی جہازوں کے خلاف دھمکیاں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہیں۔ وزیراعظم اور ولی عہد کے درمیان ہونے والی گفتگو میں بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں قانونی بحری تجارت کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی گئی۔
- علاقائی سلامتی: دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
- بحری تجارت: قانونی بحری تجارت کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
- شترکہ تعاون: موجودہ صورتحال پر قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری رکھنے کا فیصلہ۔
یہ پیش رفت علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب بحری راستوں کی سلامتی کو کسی بھی قیمت پر خطرے میں نہیں ڈالنے دیں گے۔
