ENGL_SLUG: president-zardari-monsoon-preparedness-pakistan
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملک بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر وفاقی، صوبائی اور مقامی حکام کو آپس میں مضبوط رابطہ کاری قائم کرنے اور امدادی و بچاؤ کی کارروائیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔
صدارتی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق، صدر نے خبردار کیا کہ مون سون کا موجودہ سلسلہ خطرناک علاقوں میں سیلابی ریلوں، بادل پھٹنے، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (گلوف)، لینڈ سلائیڈنگ، دریائی سیلاب اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خطرات کو بڑھا چکا ہے۔
ابتدائی وارننگز کی بروقت ترسیل یقینی بنانے کی تاکید
صدر زرداری نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) اور دیگر صوبائی و مقامی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ قریبی رابطے میں رہیں اور ابتدائی وارننگز کی بروقت ترسیل کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے بالائی کیچمنٹ ایریاز، خاص طور پر گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بارشوں، دریاؤں کے بہاؤ اور پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ساتھ ہی، زیریں علاقوں پر زور دیا کہ وہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریاں کریں۔
سیاحوں اور کمزور آبادیوں کے تحفظ پر زور
صدر نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ وہ امدادی اور بچاؤ کے وسائل کو پیشگی متعین مقامات پر تعینات کریں، کمزور آبادیوں اور اہم انفراسٹرکچر کا تحفظ کریں، اور سیلابی ریلوں، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں سیاحوں اور زائرین کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں کہیں بھی جان و مال کو خطرہ ہو، تمام متعلقہ ادارے چوکس رہیں اور فوری طور پر جوابی کارروائی کریں۔
عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل
صدر زرداری نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ سرکاری مشوروں پر عمل کریں اور شدید بارش، سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ یا موسم سے متعلق دیگر خطرات کی وارننگ والے علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف امدادی کارکنوں اور ہنگامی عملے کی کوششوں کو سراہا اور ملک بھر کے لوگوں کی حفاظت کے لیے دعا کی۔
مون سون بارشوں سے 37 افراد جاں بحق
جاری مون سون بارشوں کے دوران ملک بھر میں بارش سے متعلق مختلف واقعات میں کم از کم 37 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان بارشوں نے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور پنجاب میں سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا ہے، جس سے گھروں، فصلوں، مویشیوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ بارشوں کا یہ سلسلہ ملک کے شمالی حصوں میں سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات کا سبب بن سکتا ہے۔
