یہ خبر اپنی نوعیت کی ایک نایاب مثال ہے۔ تقریباً چار صدیاں گزرنے کے بعد، فرانس نے بحیرہ کیریبین میں واقع جزیرے سینٹ مارٹن پر اپنی سرحد کو قانونی طور پر طے کر دیا ہے۔ 22 جولائی کو سرکاری جریدے میں شائع ہونے والے ایک نئے قانون کے تحت، اب اس جزیرے پر ایک واضح سرحدی لکیر موجود ہے، جو فرانسیسی اور ولندیزی (نیدرلینڈز) علاقوں کو الگ کرتی ہے۔
1648 کے معاہدے کی ادھوری کہانی مکمل
یہ 16 کلومیٹر طویل سرحد پہلی بار ہے جب باضابطہ طور پر طے کی گئی ہے۔ اس سے قبل، 1648 میں طے پانے والے ‘معاہدہ کونکورڈیا’ کے تحت دونوں نوآبادیاتی طاقتوں نے جزیرے کی واضح حد بندی کو مستقبل پر چھوڑ دیا تھا۔ فرانسیسی پارلیمنٹ میں رکنِ اسمبلی برٹرینڈ بوئکس کی جانب سے پیش کیے گئے اس مسودہ قانون کی بدولت، اب 380 سال بعد یہ معاملہ حتمی شکل اختیار کر گیا ہے۔
متنازعہ علاقے اور ‘اوئیسٹر پانڈ’ کا حل
اگرچہ یہ معاہدہ 26 مئی 2023 کو دستخط کیا گیا تھا، لیکن اب اسے قانونی حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد چند متنازعہ علاقوں، خاص طور پر ساحلی جھیلوں والے خطوں میں، تاریخی طور پر غیر واضح سرحد کو ایک ناقابلِ تردید قانونی سرحد میں تبدیل کرنا ہے۔
سب سے اہم مسئلہ جزیرے کے مشرق میں واقع ‘اوئیسٹر پانڈ’ (ایٹانگ اوئیستر) نامی خلیج کا تھا، جس پر 1775 سے فرانس اور نیدرلینڈز کے درمیان دعوے کا تنازعہ چل رہا تھا۔ یہ تنازعہ 1980 کی دہائی میں اس وقت عروج پر پہنچا جب اس جھیل پر ایک مرینا اور ہوٹل کی تعمیر پر دونوں ممالک کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوئے۔ فرانسیسی انتظامیہ نے بالآخر پسپائی اختیار کی اور ولندیزیوں نے سرکاری اجازت نامے جاری کر دیے، جس کے نتیجے میں مرینا کی کئی عمارتیں قانونی طور پر ایک مبہم صورتِ حال کا شکار رہیں۔ اب نئی سرحد جھیل کی درمیانی لکیر کے ساتھ طے کر دی گئی ہے، جس سے ہر ملک اپنے اپنے حصے پر خود مختاری کا حق رکھتا ہے۔
شہریوں کی زندگی پر کوئی اثر نہیں، انتظامی امور میں آسانی
جزیرے کے 75,000 باشندوں کی روزمرہ زندگی پر اس سرحد کی باضابطہ منظوری کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہیں کسی چیک پوسٹ سے گزرے بغیر پورے جزیرے میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق بدستور حاصل رہے گا۔ اس معاہدے کا اصل مقصد بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے، ٹیکس کے نظام، تعمیراتی اجازت ناموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے انتظام کو آسان بنانا ہے۔
اس حد بندی کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا، جس کا اجلاس سال میں کم از کم ایک بار منعقد ہوگا۔
