بورڈو: فرانس کے جنوب مغربی علاقے جیروند میں آرکاشوں بیسن کے قریب جنگلات میں لگنے والی خوفناک آگ نے صرف 24 گھنٹوں کے دوران تباہ کن صورت حال پیدا کر دی ہے۔ بدھ کی دوپہر سے جمعرات کی صبح تک آگ نے 2,400 ہیکٹر سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث حکام کو مجموعی طور پر 20,000 مکینوں اور سیاحوں کو بحفاظت نکالنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ریکارڈ رفتار سے پھیلتی آگ، متعدد کیمپنگ سائٹس خالی
یہ علاقہ لینڈز ڈی گاسکون کے جنگلات کا حصہ ہے، جو 2022 میں بھی ہولناک آتشزدگی کا شکار ہو چکا ہے۔ بدھ کی رات تک تقریباً 5,000 افراد کو خطرے والے علاقوں سے نکالا جا چکا تا۔ جمعرات کی صبح انتظامیہ نے کیپ فیریٹ کے شمال میں واقع چھ کیمپنگ سائٹس اور ایک قدرتی رہائشی ڈومین کو احتیاطی طور پر خالی کرانے کا اعلان کیا، جس سے مزید 7,000 افراد متاثر ہوئے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جمعرات کی دوپہر تک پریفیکٹ سوفی بروکاس نے مزید 8,800 افراد کے انخلاء کا حکم دیا۔ اس میں کلیوی گاؤں کے رہائشی اور کیپ فیریٹ کی شاہراہ پر واقع تین کیمپنگ سائٹس کے مکین شامل تھے۔
چیڑ کے درختوں کے درمیان شعلوں کی دیوار
حکام کے مطابق چیڑ کے بلند و بالا درختوں کے درمیان شعلے انتہائی تیزی سے پھیل رہے ہیں اور کئی مقامات پر ان کی اونچائی کئی دسیوں میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ سینکڑوں فائر فائٹرز اور 150 گاڑیاں موقعے پر موجود ہیں، جبکہ فضائی مدد کے لیے دو ڈیش، دو کینیڈیئر اور چار ایئر ٹریکٹر طیارے پانی کی بوچھاڑیں کر رہے ہیں۔
موسم کی منفی صورتحال اور ‘کنویکٹیو’ آگ کا چیلنج
پریفیکٹ سوفی بروکاس نے بتایا کہ موسم بدستور “ناموافق” ہے اور انہوں نے عوام سے سنجیدگی سے انخلاء کے احکامات ماننے کی اپیل کی تاکہ فائر بریگیڈ اپنی پوری توجہ آگ بجھانے پر مرکوز کر سکے۔ محکمہ فائر اینڈ ریسکیو سروس کے ڈائریکٹر مارک ورمیولن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، “ہمیں ایک کنویکٹیو مرحلے کی آگ کا سامنا ہے، جو ہر سمت میں پھیل رہی ہے۔”
رات کے وقت آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فائر فائٹرز نے جنگل کے کناروں پر “ٹیکٹیکل فائر” کی حکمت عملی استعمال کی، جس کے تحت شعلوں کو ایندھن سے محروم کرنے کے لیے جوابی آگ لگائی گئی۔ تاہم اس کے باوجود آگ کا رقبہ 600 ہیکٹر مزید بڑھ گیا اور اب یہ 15 کلومیٹر کے دائرے میں پھیل چکی ہے۔
حادثاتی وجوہات کا شبہ، جنگلاتی کاموں پر پابندی
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ آگ جھاڑیاں صاف کرنے والی ایک مشین سے لگی۔ لی پورگ کے میئر مارشل زنینیٹی نے بھی اس کی تصدیق کی جبکہ جینڈرمیری نے اسے “حادثاتی” واقعہ قرار دیا ہے، تاہم حتمی تحقیقات جاری ہیں۔
اس واقعے کے بعد پریفیکٹ نے فوری طور پر پورے محکمے میں تھرمل انجنوں سے چلنے والے تمام جنگلاتی کاموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پابندی پورے دن کے لیے نافذ العمل رہے گی، جبکہ پہلے ایسے کام دوپہر 1 بجے تک جاری رہ سکتے تھے۔
ملک بھر میں خطرناک ریکارڈ: 44,000 ہیکٹر جنگلات جل چکے
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک فرانس میں 12,500 سے زائد مقامات پر آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں اور 44,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ جل چکا ہے۔ یہ تعداد 2022 کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے جب لینڈز ڈی گاسکون میں لگنے والی آگ نے 30,000 ہیکٹر سے زائد رقبہ جلایا تھا اور 50,000 افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔
بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر بورڈو کے پراسیکیوٹر نے جنگلاتی علاقوں میں آگ لگانے، خاص طور پر سگریٹ کے ٹکڑے پھینکنے کے خلاف قانونی کارروائیوں میں سختی کا اعلان کیا ہے۔ ادھر جنوب میں وار کے علاقے میں بھی ایک الگ آگ 2,550 ہیکٹر رقبے کو تباہ کر چکی ہے۔
