مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کی مہم کا آج ڈیڈ لائن ختم ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کل اتوار کو ہونے والے پولنگ کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہی، جس میں مظفر آباد ڈویژن کی نو اور ملک بھر میں مقیم کشمیری مہاجرین کی بارہ نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔
ایک اعشاریہ دو ملین ووٹرز کی قسمت کا فیصلہ کل
انتخابی حکام کے مطابق، اس مرحلے میں بارہ لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ مظفر آباد ڈویژن کی نشستوں پر 208 امیدوار میدان میں ہیں، جب کہ مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے لیے 143 امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ مرحلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان براہ راست کانٹے کے ٹکراؤ کا منظر پیش کرے گا۔
حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے کڑے بندوبست
پرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر آٹھ، حساس اسٹیشن پر چھ جبکہ عام پولنگ اسٹیشن پر چار پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
پہلے مرحلے کی شفافیت پر بلاول کا مطالبہ
دریں اثنا، دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل پہلے مرحلے میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر سیاست گرم ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے کی دھاندلی سے متعلق تمام شکایات کی کھلی سماعت کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ “پہلے مرحلے کی ساکھ کا اندازہ اسی بات سے لگایا جائے گا کہ انتخابی عمل کے دوران شفافیت، غیر جانبداری اور انصاف کو کس حد تک یقینی بنایا گیا۔” بلاول بھٹو کے اس بیان نے انتخابی عمل کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کو مزید تقویت دی ہے۔
انتخابی معرکے کی اہم جھلکیاں
دوسرے مرحلے کے یہ انتخابات آزاد کشمیر کی سیاسی بساط کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مظفر آباد ڈویژن کو روایتی طور پر مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، تاہم پیپلز پارٹی نے بھرپور مہم چلا کر میدان سخت کر دیا ہے۔ مہاجرین کی نشستیں ہمیشہ سے غیر متوقع رہی ہیں، جہاں مختلف جماعتوں کے امیدوار آزاد حیثیت میں بھی قسمت آزما رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے تمام پولنگ عملے کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں اور پولنگ کا مواد متعلقہ اسٹیشنوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ کل صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک بلا تعطل ووٹنگ جاری رہے گی۔
