کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تقریباً دو سال بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ایک بار پھر خالص خریداری کی جانب قدم بڑھا دیا ہے، جو ملک کے سرمایہ کاری ماحول پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح اشارہ ہے۔ جولائی 2026ء کے دوران بیرونی سرمایہ کاروں نے 34.4 ملین ڈالر کی خطیر رقم مارکیٹ میں لگائی۔
یہ رجحان گزشتہ مالی سال کے اختتام کے بالکل برعکس ہے جب جون 2026ء میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 180 ملین ڈالر مالیت کے حصص فروخت کرکے مارکیٹ سے رقوم نکال لی تھیں۔
کن شعبوں نے سب سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کی؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 23 ماہ کے طویل وقفے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار مجموعی طور پر خالص خریدار کی پوزیشن میں آئے ہیں۔ جولائی کے مہینے میں سرمایہ کاری کے لیے دو شعبے نمایاں رہے:
- بینکاری کا شعبہ: 13.8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری
- تیل و گیس کی تلاش کا شعبہ: 6.7 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری
سیمنٹ سیکٹر میں فروخت کا رجحان
تاہم، اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسی دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سیمنٹ کے شعبے میں اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی، جو اس صنعت کے حوالے سے ایک مختلف حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاری کی یہ واپسی پاکستان کی معیشت کے استحکام اور اسٹاک مارکیٹ میں موجود پرکشش قیمتوں کا نتیجہ ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں مزید مثبت رجحانات کی توقع کی جا سکتی ہے۔
