مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے کے بعد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئےوری کارروائی کا حکم دے دیا۔ انہوں نے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سیکیورٹی انتظامات پر حکومتی برہمی
وزیراعظم راٹھور نے صدر کے لیے فراہم کردہ سیکیورٹی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ شرپسندوں نے کیا، جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکومت نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی عندیہ دیا ہے تاکہ حقائق کو سامنے لایا جا سکے۔
پیپلز پارٹی کی شدید مذمت اور مطالبات
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے اس مبینہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ مظفرآباد ڈویژن میں سیاسی مخالفین کی بڑھتی ہوئی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔
بخاری نے اس حملے کو ریاست کے ایک آئینی عہدے پر براہ راست یلغار قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا:
- پیپلز پارٹی کسی بھی دباؤ یا جبر سے مرعوب نہیں ہوگی۔
- مظفرآباد میں ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
- الیکشن کمیشن شہریوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔
ul>
انتخابی عمل پر سنگین خدشات
نیر بخاری نے مزید انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے متعلق درجنوں شکایات جمع کروا چکی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے جانبداری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں مواقع کو یقینی بنائے۔
